جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ہم نے بدلہ لینے کا سوچ لیا تو برداشت نہیں کر سکو گے، علی امین گنڈا پور

datetime 8  فروری‬‮  2025 |

صوابی (این این آئی)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر ہم نے بدلہ لینے کا سوچ لیا تو برداشت نہیں کر سکو گے، پی ٹی آئی ،عمران خان نظریہ بن چکے ،نظریہ مرتا ہے نہ ڈرتا ہے، فوج اور عوام کو حکومت لڑوا رہی ہے، ہم تو بات چیت کیلئے تیار یہ بھاگ رہے ہیں، اپنا حق آئین و قانون کی بالادستی تک مانگتے رہیں گے۔صوابی میں پی ٹی آئی کے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور انہیں نہیں بھولیں گے،ہمیں مجبور نہ کیا جائے، اگر انقلاب کا نعرہ لگا دیا تو پھر تم اس کا بوجھ برداشت بھی نہیں کرسکو گے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اور عوام کو حکومت لڑوا رہی ہے، ہم تو بات چیت کیلئے تیار ہیں جبکہ یہ بھاگ رہے ہیں، حکومت بات چیت سے بھاگ رہی ہے تو اس کا جواب بھی ہمیں دینا آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ دہشت گردی کا شکار ہے اور عوام کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مقابلہ ممکن نہیں، میں کہتا ہوں ان چوروں کا ساتھ دینا چھوڑ دو اور عوام کے پاس آجائو۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئر مین جیل میں بیٹھ کر جیت گیا، ہم متحد ہوکر بانی چیئرمین کی قیادت میں آگے بڑھیں گے اور اپنا حق آئین و قانون کی بالادستی تک مانگتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہماری آواز ایک ہی ہے اور ہم ملکر آئین کا تحفظ مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نظریہ بن چکے ہیں، نظریہ مرتا نہیں نہ ہی ڈرتا ہے، تم ایوانوں میں بیٹھ کر بھی ہار گئے ہیں کیونکہ تمہارے پاس کوئی نظریہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے بدلہ لینے کا سوچ لیا تو تم برداشت نہیں کر سکو گے، اگر نفرتیں بڑھائیں تو پاکستان کا نقصان ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…