منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے کسی کو کوئی خط تحریر نہیں کیا، اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا انکشاف

datetime 6  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے جیل سے کسی شخصیت کو کوئی خط تحریر نہیں کیا۔تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم نے انکشاف کیاکہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے جیل سے کوئی خط کسی شخصیت کو تحریر نہیں کیا، کوئی بھی زیرحراست ملزم یا مجرم جیل سے کوئی خط تحریر کرے گا تو اس کی جانچ پڑتال جیل انتظامیہ اور سپرنٹنڈنٹ کرتا ہے اس طرح شخص مذکور نے فوج کے سربراہ یا ملک کے چیف جسٹس کو جیل سے کوئی خط ارسال نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی زیرحراست شخص کو کوئی خط لکھنا ہو تو وہ قلم کاغذ جیل کی انتظامیہ سے حاصل کرے گا پھر اس خط کو جیل سپرنٹنڈنٹ کو سونپے گا جو جیل رولز کی دفعہ 565 کے تحت اسے پڑھ کر یقینی بناکر اس میں انتشار پسندی، دہشتگردی، امن عامہ اور کسی کو گزند پہنچانے کا پیغام نہیں ہے تو وہ اسے خط مکتوب الیہ کو ارسال کرنے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سزیافتہ ملزم/مجرم کو ہفتے میں دو ملاقاتوں کی اجازت ہوتی ہے اور اگر کوئی ملزم/مجرم ہفتے میں ایک خط سپرد قلم کرے گا تو پھر ملاقات کی ایک اجازت باقی رہ جاتی ہے، عمران خان کو ہفتے میں تین تین ملاقاتیں کرادی جاتی ہیں اس طرح اگر جیل کے باہر سے کئی ملزم/مجرم کیلئے خط آتا ہے تو اس کی جانچ پڑتال کرنا اور اس میں دیے گئے پیغام کو سنسر کرنا بھی سپرنٹنڈنٹ جیل کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بارے میں دعویٰ کرنا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے سراسر بے بنیاد اور لغو ہے ،کسی بھی ملزم/مجرم کو جیل کی قید تنہائی میں رکھنے کا حکم مجاز عدالت دے سکتی ہے، ازروئے قانون یہ حکم عدالت کی طرف سے اپنے ملزموں کے بارے میں جاری کیا جاتا ہے جو وعدہ معاف بن جاتے ہیں اور انہیں دوسرے ملزموں کے اثر و نفوذ سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسا حکم دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو نہ صرف وہ سہولتیں حاصل ہیں جو کسی بھی سزا یافتہ ملزمہ/مجرمہ کو سزا وار ہیں بلکہ اس سے ماوریٰ بھی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، قید تنہائی کا واویلا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور سراسر جھوٹ ہے، عمران اور ان کی اہلیہ بسا اوقات ہفتے میں تین مرتبہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوتے ہیں جہاں اگر 1103ان کیلئے موجود ہوتے ہیں جن سے ملزم/مجرم بات کرسکتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ انہیں کوئی خط دے سکیں یا وصول کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ جیل میں سہولتوں کے حوالے سے عمران خان کے ساتھ بھی فراخدلانہ سلوک کیا جاتا ہے اس کے باوجود دو تین مرتبہ انہوں نے تنہائی میں رکھے جانے اور سہولتوں کے بارے میں شکایت کی تو فاضل جج نے خود جیل کے اندر جاکر انہیں ملنے والی آسائشات اور سہولتوں کا معائنہ کیا پھر انہیں اطمینان بخش قرار دیا۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ عمران خان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے پیغام رسانی کرنا بھی ناقابل فہم ہے، جیل میں رہ کر اسے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…