بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات کا غیرہنرمند پاکستانیوں کو ویزے نہ دینے کا فیصلہ

datetime 5  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں غیر ہنر مند پاکستانیوں کے لیے نوکریوں کے مواقع کم ہوتے جائیں گے کیونکہ اب امارات کی پالیسی ہنر مند اور پروفیشنل افراد کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔

گلف نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ہمیں اپنے اکاؤنٹنٹس، آئی ٹی ماہرین، بینکرز، مصنوعی ذہانت کے ماہرین، ڈاکٹروں، نرسوں اور پائلٹس کو جدید مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ امارات میں ملازمتوں کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات میں ہنر مند افراد کی طلب بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستانی کارکنان اپنی صلاحیتوں میں نکھار لائیں تو ان کے لیے شاندار مواقع موجود ہوں گے۔سفیر نے مزید کہا کہ کم اجرت والی ملازمتوں کو ہنر مند اور زیادہ تنخواہ والی نوکریوں میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی تاکہ پاکستانی زیادہ بہتر آمدنی حاصل کر سکیں۔

فیصل نیاز ترمذی نے وضاحت کی کہ اگر پاکستانی نوجوان ان مخصوص شعبوں میں مہارت حاصل کریں تو وہ ایسی ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں جن میں تنخواہیں 20 ہزار درہم یا اس سے زیادہ ہوں، جبکہ اس وقت غیر ہنر مند افراد محض ایک ہزار درہم یا اس کے آس پاس کما رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان اور امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب یہ شراکت داری صرف مزدوروں کی برآمد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے پر بھی مرکوز ہے۔

سفیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ تعلقات آئندہ نسلوں تک وسیع ہوں گے، جن میں سرمایہ کاری کے مواقع اور پاکستان میں ملازمتوں کی تخلیق پر زور دیا جائے گا، خاص طور پر آئی ٹی، اکاؤنٹنگ، ہیلتھ کیئر اور ایوی ایشن جیسے شعبوں میں۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ فزیوتھراپسٹس اور نرسوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ رجحان صرف متحدہ عرب امارات تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے، اس لیے پاکستان میں عالمی معیار کی نرسنگ سہولیات کی ضرورت ہے۔سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں پائلٹ ٹریننگ اسکولز کے قیام کے لیے مذاکرات جاری ہیں تاکہ نئے ایوی ایٹرز کے لیے جدید اور معیاری تربیت فراہم کی جا سکے۔

ترسیلات زر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف چھ ماہ میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ رقم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مالی سال کے اختتام تک اس کے 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرین آپریٹرز، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر بلیو کالر ورکرز نے ملک کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔فیصل نیاز ترمذی نے زور دیا کہ پاکستان کو سیاحت کے فروغ، اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری اور عالمی معیشت میں اپنی اہم پوزیشن بنانے



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…