بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں پراسرار بیماری سے 16 افراد جاں بحق

datetime 20  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوی کے گائوں بدھل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 16 افراد کی پراسرار بیماری سے اموات واقع ہو گئی۔پراسرار بیماری سے مرنے والے افراد میں نیوروٹوکسن کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے نیوروٹوکسن ایک کیمیکل یا مادہ ہے جو اعصابی بافتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور انسانی اعصابی نظام پر سنگین اثرات مرتب کرتا ہے۔بعض کیمیائی آلودگیاں جیسے پالیمیرائزڈ کیمیکلز یا ہیوی میٹلز (سیسہ، پارہ، ایٹم وغیرہ) نیوروٹوکسن کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق 16 افراد کی پراسرار اموات نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، 7 دسمبر سے 17 جنوری کے درمیان ہونے والی اموات میں متاثرین نے بخار، درد، متلی اور ہوش میں کمی کی شکایات کی۔حکام کے مطابق بیشتر متاثرین ایک ہی خاندان سے ہیں جس نے مقامی سطح پر مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ماہرین صحت نے تحقیقات کے دوران نیوروٹوکسن کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اصل سبب کا پتا چل سکے، مقبوضہ کشمیر میں نیوروٹوکسن کا جان بوجھ کر استعمال خارج از امکان نہیں۔امکان ہے کہ یہ انسانیت سوزکام کشمیریوں کی دشمن بھارتی فوج کی جانب سے کیا گیا ہو، یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مخصوص علاقوں میں کھاد یا دیگر ذرائع سینیوروٹوکسن کا استعمال ہو رہا ہے۔مودی سرکار کی جانب سے تحقیقات کا آغاز تو کیا گیا ہے تاہم ماضی میں ہونے والی تحقیقات کی طرح یہ بھی محض اعلان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…