جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف، ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ

datetime 20  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں۔سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندو خیل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قتل کیس کے ملزم اسحٰق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔قتل کیس میں ملزم اسحق کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے؟ کسی کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دی جانی چاہیے تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ 2017 سے کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں۔جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟ 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا؟ بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے،انہوں نے کہا کہ دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہیگا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے۔

جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس میں کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ ادارہ (سپریم کورٹ) بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے، جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب ایک وزیراعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے؟ کسی کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دی جانی چاہیے تھی۔جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟ وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہاؤس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔عدالت نے پولیس کو ملزم اسحٰق کو گرفتار کرکے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ ملزم اس سے پہلے ضمانت حاصل کرنے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…