جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سال میں 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپ میں ‘پناہ’ کی درخواستیں دیں، رپورٹ

datetime 19  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)یورپی یونین کے ادارہ برائے پناہ گزین (ای یو اے اے) نے کہا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے دوران 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپی یونین پلس ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستانیوں کی جانب سے 3400 کے قریب یورپ میں پناہ کی درخواستیں موصول ہوئیں تاہم رواں سال اسی مہینے میں اس اعداد وشمار میں کمی ریکارد کی گئی، اکتوبر 2024 یہ تعداد 1900 ہے۔

پاکستانیوں کی جانب سے پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں وصول کرنے والا ملک اٹلی تھا، جس بعد فرانس، یونان اور جرمنی میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے درخواستیں دیں۔کنٹری فوکس آن پاکستان رپورٹ کے مطابق یورپی یونین پلس ممالک نے پاکستانی درخواستوں پر 20 ہزار فیصلے جاری کیے جن میں سے صرف 12 فیصد درخواست دہندگان کو پناہ گزین کا درجہ یا ذیلی تحفظ دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس سال اکتوبر کے آخر تک پناہ کی درخواستوں سے متعلق تقریبا 34 ہزار فیصلے زیر التوا تھے۔رپورٹ میں پاکستان کے سیاسی اور سیکیورٹی پہلو، ملکی حالت میں ملوث اسٹیک ہولڈرز اور عدلیہ کا کردار کے علاوہ ملک میں ایک مخصوص گروپ کے ساتھ رواں رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بتایا گیا۔رپورٹ میں پاکستان میں سیاسی اور سلامتی پہلو کے علاوہ مختلف گروہوں اور افغان مہاجرین کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق 24 لاکھ لوگ جبری مشقت یا جبری شادی کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ خطے میں غلامی کے لیے پاکستان کا شمار سب سے کمزور ممالک میں ہوتا ہے۔پاکستان انسانی اعضا کی تجارت سمیت اسمگلنگ کے ایک بڑے راستے پر واقع ہے، انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود ملک کی کمزور جمہوریت اور احتسابی نظام نہ ہونے کے باعث یہ قوانین موثر نہیں ہیں۔2023 تک پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے معیارات پر مکمل طور پر پورا نہیں اترا، حالانکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں تاہم بدعنوانی اور اسمگلنگ کے جرائم میں ریاستی حکام کی ملی بھگت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…