منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

جسٹس طارق محمود جہانگیری کو الیکشن ٹریبونل اسلام آباد کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ہٹا کر جسٹس ریٹائرڈ عبدالشکور پراچہ کو الیکشن ٹریبونل اسلام آباد کا سربراہ مقرر کردیا۔الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کے تینوں ارکان قومی اسمبلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیا جس میں انہوں نے اپنے خلاف دائر کردہ انتخابی عذر داریاں دوسرے ٹریبونل منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کی جانب سے جاری کردہ 3 علیحدہ مگر ایک جیسے حکم ناموں میں اقدام کو آئین کی دفعہ 218(3) اور 10اے جبکہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 3،4 اور 151 کے تحت درست قرار دیا ہے۔

اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں سے متعلق انتخابی عذرداریاں اب الیکشن ٹریبول راولپنڈی کو منتقل کردی گئی ہیں جس کی سربراہی جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ کررہے ہیں جنہیں اب اسلام آباد کا اختیار بھی تفویض کردیا گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل الیکشن ٹریبونل اسلام آباد کا سابقہ نوٹیفکیشن واپس لیا جاتا ہے، دفتر کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس کے مطابق کارروائی کرے۔یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، راجہ خرم نواز اور انجم عقیل خان کی درخواستوں پر کیا گیا ہے، درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی کے شعیب شاہین، سید محمد علی بخاری اور عامر مغل شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے ایک حکم نامے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کا تصور اس خیال پر منحصر ہے کہ قانونی کارروائی طے شدہ قواعد کے مطابق کی جائے، مدعی کے حقوق کا فیصلہ کرنے کے لیے قانونی دفعات اور طے شدہ اصولوں کا اظہار کریں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 10 اے کی شمولیت کے بعد منصفانہ ٹرائل اور مناسب طریقہ کار بنیادی حقوق میں شمار ہوتا ہے۔

حکم نامے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے ٹریبونل کا سربراہ مقرر کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا تھا، حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کی واحد بنیاد یہ تھی کہ الیکشن کمیشن نے جلد بازی میں کارروائی کی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تبادلے کا اختیار نگرانی اور انتظامی نوعیت کا ہے اور ہر متعلقہ شخص کو موقع فراہم کرنے کے بعد اس کا استعمال کیا جانا چاہیے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے کمیشن کے حکم کو مسترد کرنے کے لیے کسی اور بنیاد کا ذکر نہیں کیا، موجودہ معاملے میں جو قانونی چارہ جوئی کا دوسرا دور ہے، کمیشن نے فریقین کو اضافی بنیاد، تحریری جوابات، ترمیم شدہ جوابات اور وسیع دلائل داخل کرکے اپنے موقف کا دفاع کرنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی درخواست پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جگہ جسٹس ریٹائرڈ عبدالشکور پراچہ کو الیکشن ٹریبونل بنایا تھا جسے پی ٹی آئی امیدواروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…