بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم چوتھی بار مؤخر

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

راولپنڈی(این این آئی)سانحہ نو مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم چوتھی بار مؤخر ہوگئی۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ کیس میں مزید 10 ملزمان نے عدم ثبوت کی بنیاد پر بریت کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ اکرام امین منہاس نے کہا کہ ہمارے پاس مکمل ثبوت ہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہوا، اگر آپ سچے ہیں تو عدالت کا سامنا کیوں نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ملزمان کی کوشش ہے کہ سماعت میں تاخیر ہو، ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں، ملزمان نے آج بھی حاضری سے استثنا کی درخواست کی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عدالت کے ماحول کو خراب کیا جائے۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس کیس میں 119 ملزمان ہیں اور حاضری مکمل نہ ہو تو فرد جرم نہیں لگ سکتی، ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ان کی ضمانتیں منسوخ کی جائیں کیونکہ یہ ضمانتوں کا غلط استمال کر رہے ہیں۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہا کہ سب ناکام ہو چکے ہیں، سب بے آبرو ہو چکے ہیں، ایک شخص سب کی آبرو کے لیے کھڑا ہے، عمران خان نے کال دی تو دوبارہ اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی ریاست ہے جس میں شہریوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر کاٹا جا رہا ہے، شہریوں کو اسلام آباد میں داخلے سے محروم کیا جا رہا ہے۔

احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، پاکستان کے آئین سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔بابر اعوان نے کہا کہ ہارے ہوئے لشکر کی حکومت کو بٹھایا گیا، ماڈل ٹاون اور اسلام آباد جیسے واقعات کیے، جن لوگوں کو بٹھایا گیا ان لوگوں نے سرعام قتل کیے، جنازہ لے کر جانے والوں سے لاشیں چھین لی گئی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کونسل کی حمایت کرتا ہوں، ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، خون کو چھپایا نہیں جا سکتا، یہ لوگ اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہوں گے، عدالتیں لوگوں کے اغواء کو روکتی تو آج قتل تک بات نہ پہنچتی۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ شہداء کی تعداد بلوچستان کے چھوٹے صوبوں سے اور خیبر پختونخوا سے ہے، گولیاں چلانے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے، وکلاء کے تمام گروپس متفق ہیں کہ آئین کا راج ہوگا۔ 36 سال مارشل لاء نے قائداعظم کا پاکستان ٹور دیا ہے۔کیس میں عمران خان سمیت 143 سے زائد ملزمان نامزد ہیں جبکہ ذوالفقار بخاری، شہباز گل سمیت 23 ملزمان اشتہاری ہیں۔ نامزد ملزمان پر بیرون ممالک جانے پر پابندی بھی عائد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…