جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا وضاحتی فیصلہ چیلنج کردیا

datetime 27  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مفروضوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے 14 ستمبر کی وضاحت کو چیلنج کر دیا اور فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے 8 ججوں نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے وضاحتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس الیکشن کمیشن نے اعتراضات کرتے ہوئے درخواست دائر کردی۔

اکثریتی ججز کی 14 ستمبر کی وضاحت پر الیکشن کمیشن نے نظرثانی دائر کردی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے پر تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن نہیں۔نظر ثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12 جولائی کے فیصلے کی وضاحت 25 جولائی کو دائر کی۔درخواست میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ نے 14 ستمبر کو وضاحت کا آرڈر جاری کیا، عدالت نے تحریک انصاف کو جواب کے لیے کب نوٹس جاری کیا، تحریک انصاف کی دستاویز پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری نہیں کیا۔نظر ثانی درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے تحریک انصاف کی دستاویزات پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب نہیں کیا، الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست کے بعد پارلیمنٹ نے قانون سازی کردی ہے، سپریم کورٹ 14 ستمبر کی وضاحت پر نظرثانی کرے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے فیصلے پر عملدرآمد روکنے کی استدعا کرتے ہوئے استدعا کی کہ نظرثانی درخواست پر فیصلہ ہونے تک عدالتی فیصلے پر حکم امتناع دیا جائے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے اور عدالت عظمیٰ تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں اپنے 12 جولائی کے احکامات سے انحراف کیا، تفصیلی فیصلے میں عدالت نے 41 ارکان کو تحریک انصاف تک محدود کردیا، آزاد ارکان کی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہے۔الیکشن کمیشن نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ارکان کو 15 دن دے کر آئین کے الفاظ کو بدل دیا، آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی جمع کرائے، عدالتی فیصلے میں ارکان کے بیان حلفیوں کو مکمل نظر انداز کردیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے سرٹیفکیٹس درست بھی مان لیں تو پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 39 نہیں بنتی، امیداروں کی جانب سے سیکشن 66 کے تحت پارٹی وابستگی کے ڈیکلیریشن جمع نہیں کرائے گئے۔الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ رولز 94 انتخابی نشان والی سیاسی جماعت کے لیے ہے، تحریک انصاف نے ججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کرائی وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا، تحریک انصاف نے کسی فورم پر اپنے حق کا دعویٰ نہیں کیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دعویٰ نہ کرنے والے کو پارٹی یا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…