جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کی منظوری کا امکان

datetime 19  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024ء کابینہ میں پیش کیے جانے اور اس کی منظوری کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023ء نافذ العمل ہے، سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر 2023ء کے فیصلے میں مذکورہ قانون کی دفعہ 5 کی زیر دفعہ 2 کو خلاف آئین قرار دیا تھا، آئین کے آرٹیکل 184 کی کلاز 3 کے تحت جاری حکم کیخلاف اپیل کا حق بھی آرڈیننس میں شامل کیا گیا۔

ترمیمی آرڈیننس 2024ء کے نفاذ سے عدلیہ میں جو بھی کارروائی ہوگی اس کا ٹرانسکرپٹ تیار ہوگا، ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ سے عدلیہ کی کارروائی عوام کیلیے دستیاب ہوگی، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کا مقصد عدالتی عمل میں مزید شفافیت لانا ہے۔

ذرائع کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، کمیٹی کا کئی مرتبہ کوئی رکن دستیاب نہیں ہوتا جس کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں، مقدمات کی میرٹ پر سماعت اور انہیں نمٹانے کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹی کے اندر بہتری لائی جا رہی ہے، نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کسی رکن کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس کسی معزز جج کو کمیٹی کا رکن نامزد کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…