اتوار‬‮ ، 04 جنوری‬‮ 2026 

فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، عمران خان

datetime 19  اگست‬‮  2024 |

راولپنڈی(این این آئی)پی ٹی آئی بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا سارا ڈرامہ مجھے ملٹری کورٹ لے جانے کیلئے کیا جارہا ہے، باجوہ نے میری کمر میں چھرا گھونپا ہے، انہوں نے نواز شریف سے ڈیل کرکے جنرل (ر) فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا تھا۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کا سارا ڈرامہ میرا مقدمہ ملٹری کورٹ میں لے جانے کیلئے کیا جارہا ہے، انہیں پتہ ہے میرے خلاف تمام مقدمات کھوکھلے ہیں جو اسٹینڈ نہیں کریں گے، یہ سب ملٹری کورٹ کا چکر چل رہا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ جنرل فیض کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان سب کو معلوم ہے میرے خلاف باقی سارے کیسز فارغ ہوچکے ہیں، یہ جنرل فیض سے کچھ نہ کچھ اگلوانا چاہتے ہیں، یہ جنرل فیض سے کوئی نہ کوئی بیان دلوائیں گے کہ 9 مئی سازش تھی، اگر جنرل فیض نے میری گرفتاری کا آرڈر کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کی تو اس کو پکڑیں، جو سازش کرتا ہے وہ جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ نہیں کرتا۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ رجیم چینج ہمارے خلاف ہوا اور مجھے ہی جیل میں ڈال دیا گیا، یہ کہہ رہے ہیں جنرل (ر) فیض حمید ماسٹر مائنڈ تھے، کہا فیض حمید نے مجھے گرفتار کرایا، ان کو شرم نہیں آتی یہ کہہ رہے ہیں جنرل فیض بشریٰ بی بی کو ہدایات دیتے تھے۔

چیف جسٹس سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو ڈر ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چلے گئے تو ان کی الیکشن کی چوری کھل جائے گی۔سابق آرمی چیف کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ نے میری کمر میں چھرا گھونپا ہے، انہوں نے نواز شریف سے ڈیل کرکے جنرل (ر) فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا تھا۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ ہمیشہ جنرل فیض کا دفاع کرتے رہے اب جب وہ گرفتار ہوگئے آپ کو کیوں خدشہ ہے وہ وعدہ معاف گواہ بن جائے گا جس پر سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ مجھے کوئی فکر نہیں اگر وہ میرے خلاف کوئی گواہی دیتا ہے، میں جنرل فیض کی حد تک صرف یہ کہہ رہا ہوں وہ طالبان کے ساتھ3 سال تک مذاکرات کررہا تھا اس کو ہٹانا نہیں بنتا تھا، میں نے جنرل باجوہ سے بھی کہا تھا اس کو نہ ہٹاؤ۔

صحافی نے دریافت کیا کہ آپ اگر ملٹری کورٹ چلے گئے پارٹی کا کیا بنے گا؟ پارٹی میں پہلے سے اختلافات چل رہے ہیں جس پر عمران خان نے اختلافات کا تاثر رد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جو مرضی کرلیں، ہماری پارٹی آئے روز مضبوط ہورہی ہے۔صحافی نے پوچھاکہ بطور وزیر اعظم آپ کو آرمی چیف بھی صحیح نہیں ملا،ڈی جی آئی بھی صحیح نہیں ملا، آفس بوائے بھی صحیح نہیں ملا تو آپ کس چیزکے وزیر اعظم تھے،اس پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جنرل باجوہ کی مکمل حمایت کی لیکن اس نے میری کمر میں چھرا گھونپا۔



کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…