جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغان حکومت نے پاکستان سے واپس جانے والے شہریوں کو قبول کرنے سے انکار،ان کی اپنی ہی زمین ان کیلئے تنگ کردی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کابل (این این آئی)افغان حکومت نے پاکستان سے واپس جانے والے شہریوں کو قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے ان کی اپنی ہی زمین ان کے لیے تنگ کردی۔وائس آف امریکہ کے مطابق پاکستان میں مقیم 37 لاکھ افغان شہریوں میں سے 17 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 7 لاکھ سے زائد افغان شہری فرار ہوکر پاکستان آئے، ملکی سالمیت کے پیش نظر حکومت پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کو اپنے ملک واپس جانے کا حکم دیا،افغان باشندوں کو اپنے ملک افغانستان واپس پہنچنے پر بیشمار دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، افغان حکومت نیاپنیشہریوں پراپنا سامان ساتھ لانے پربھی پابندی عائدکردی،افغان شہریوں کو اپنے ملک میں داخل ہونیکی اجازت نہ دینا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اپنے ضروری سامان سے محرومی کے باعث افغان شہری اپنے ہی ملک میں روزگار کمانے سے قاصرہیں،حکومت اور شہریوں کے مابین ریاستی معاہدے کا تقاضہ ہے کہ افغان حکومت اپنے شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے اور انہیں تمام سہولیات بھی فراہم کرے۔ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے والے حکمران نہیں بلکہ ملک دشمن عناصر کہلائے جاتے ہیں۔افغان شہریوں نے کہا کہ چالیس سال پہلے ہم افغانی پاکستان آئے تھے اور پاکستان حکومت نے ہمیں اجازت دی کہ ہم اپنا سامان بھی لے آئیں،اب افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ ہمارا سامان وہاں لے کر جانے کی اجازت دے تاکہ ہم اپنا روزگار چلا سکیں۔ان کے پاس اپنی مشینیں اورگھرکا سامان ہے۔

انہیں پاکستان میں جو سہولیات مل رہی تھیں وہ افغانستان میں بھی مل جائیں تو ہم بہت خوش ہونگے۔ماضی میں بھی ڈنمارک، برطانیہ، ناروے اور کئی دیگر ممالک مہاجرین کو ان کے ملک کے حالات بہتر ہونے پر واپس بھیج چکے ہیں،تمام ممالک نے نہ صرف اپنے شہریوں کو واپس قبول کیا بلکہ انہیں تمام حقوق اور سہولیات بھی فراہم کیں۔کیا اپنے ہی شہریوں کو مسترد کرنے والے ریاستی حکمران کہلانے کے قابل ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…