جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیض حمید پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کی جانب سے فیض حمید کے خلاف معیز احمد کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیض حمید پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ منگل کو جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار معیز احمد نے فیض حمید کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کی درخواست کی۔ درخواست گزار کے فیض حمید پر لگائے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے الزامات درست ثابت ہوئے تو وفاقی حکومت اور اداروں کی ساکھ کم ہوگی۔ اداروں کی ساکھ بچانے کیلیے درخواست گزار کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کہا گیا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 کے تحت اس معاملے میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتی، اگر درخواست گزار وزارت دفاع میں شکایت درج کرواتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار نے فیض حمید پر سنگین الزامات عائد کی۔

درخواست گزار کے مطابق اداروں نے اس کے گھر اور دفتر پر غیرقانونی چھاپہ مارا اور اہلخانہ کو غیرقانونی تحویل میں رکھا گیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق فیض حمید کے کہنے پر ان کا قیمتی اور دفتری سامان لوٹا گیا۔ درخواست گزار اور انکے اہلخانہ کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق فیض حمید کے ماتحت افسران نے ان کے کہنے پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ اس میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال کیا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا کیسے بنتا ہے؟ جس پر درخواست گزارکے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ کارروائی کیلیے کوئی متعلقہ فورم نہیں بنتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار فیض حمید کے خلاف وزارت دفاع سے رجوع کرسکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے الزامات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی۔عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…