اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 239 کے تحت حاصل اختیار کے مطابق انتخابی رولز میں تبدیلی کی منظوری دیدی

datetime 24  ستمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 239 کے تحت حاصل اختیار کے مطابق انتخابی رولز میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ مختلف منظرناموں اور وقت کے ساتھ پیدا سامنے آنے والی مشکلات کو حل کرنے کے لیے قانون کے مطابق الیکشن کمیشن رولز میں مختلف ترامیم کی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے الیکشن رولز کی 18 شقوں میں تبدیلی کی ہے اور 5 نئے فارم بھی جاری کردئیے ہیں۔اس میں کہا گیاکہ ترمیم شدہ رولز پر 15 روز میں اعتراضات دائر کیے جا سکیں گے، سیاسی جماعتیں یا امیدوار 7 اکتوبر تک اعتراضات عائد کرسکتے ہیں۔امیدواروں کے لیے الیکشن اخراجات کے لیے بینک اکائونٹ سے متعلق رولز میں تبدیلی کر دی گئی ہے، اعلامیے کے مطابق امیدوار کو انتخابی اخراجات کیلئے الگ بینک اکاونٹ کھولنا ہو گا، الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار کا مشترکہ اکاونٹ قابل قبول نہ ہو گا، ریٹرننگ افسر امیدوار کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کے آفس میں رزلٹ فراہم کرے گا۔

اس میں پوسٹل بیلٹ سے متعلق رولز بھی تبدیل کردیے گئے ہیں، پوسٹل بیلٹ کو الگ الگ پیکٹس میں سیل کر کے متعلقہ ریٹرننگ افسران (آر اوز) کو بھیجا جائے گا، پوسٹل بیلٹ الیکشن ڈے سے پہلے آر او کو نہ ملنے پر ووٹس گنتی میں شمار نہیں ہوں گے، رات 2 بجے تک رزلٹ میں تاخیر پر آر او فوری الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گا، آر او تاخیر کی وجوہات سے بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گا۔رولز کے مطابق آر او امیدواروں کی موجودگی میں رزلٹ حوالے کرے گا، آر او نتائج کیلئے فارم 47، 48، 49 خود مرتب کر کے سیل کرے گا، امیدوار انتخابی اخراجات کا ریکارڈ خود مرتب اور حوالے کرے گا، امیدوار انتخابی اخراجات کی مکمل تفصیلات اور انتخابی مہم پر مالی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا پابند ہو گا۔

رولز کے مطابق امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے الگ بینک اکائونٹ کھولنے کا پابند ہو گا، انتخابات سے متعلق پیٹیشن ایک لاکھ روپے کے عوض فائل کی جا سکے گی، الیکشن کمیشن کیس پر 180 روز میں فیصلہ سنائے گاَ۔رولز میں کہا گیا کہ دوران سماعت التوا مانگنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار جرمانہ کیا جائے گا، سماعت میں 3 روز سے زیادہ کا التوا نہیں ملے گا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی الیکشن سے 15 روز پہلے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کی پابند ہوں گی، اسی طرح رولز میں ترمیم کے بعد سیاسی جماعتیں کو انٹرا پارٹی الیکشن کے 7 روز بعد تفصیل لازمی جمع کرانا ہوں گی، الیکشن کمیشن کے جرمانے حکومتی خزانے میں جمع ہوں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا تھا عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کرا دیے جائیں گے جبکہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023کو شائع کر دی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اور تجاویز کی سماعت کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی اور اس کے بعد 54 دن کے الیکشن پروگرام کے بعد انتخابات جنوری 2024کے آخری ہفتے میں کرا دیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…