جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

رویت ہلال کی جھوٹی شہادت جرم قرار، حکومت نے سزا کا اعلان کردیا

datetime 1  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی سے منظور کردہ پاکستان رویت ہلال بل 2022 کی تفصیلات سامنے آگئیں جس کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی 16 افراد پر مشتمل ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق رویت ہلال کمیٹی بل صدر کے دستخطوں کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

قومی اسمبلی سیمنظور کردہ پاکستان رویت ہلال بل 2022 میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے علاوہ نجی کمیٹیوں کے چاند دیکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ رویت ہلال کمیٹی بل کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔بل کے مطابق سرکاری اعلان سے پہلے الیکٹرانک میڈیا پربھی چاند نظر آنے کی خبر دینے پرپابندی عائد ہوگئی، خلاف ورزی پر پیمرا مذکورہ چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کرے گا۔بل کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی 16 افراد پر مشتمل ہوگی جس میں تمام مکاتب فکر کے علما ہوں گے، ضلعی رویت ہلال کمیٹی کو ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں چلایا جائے گا اور ضلعی رویت ہلال کمیٹی میں بھی تمام مکاتب فکر کے علماء کی نمائندگی ہوگی جب کہ ہر صوبہ ضلعی رویت ہلال کمیٹی تشکیل دے گا جو 6 ارکان پر مشتمل ہوگئی، اس کے علاوہ اسلام آباد کی کمیٹی 7 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں چیئرپرسن بھی شامل ہوگا، وفاقی صوبائی اور اسلام آباد کی رویت ہلال کمیٹیوں کی مدت 3 سال ہوگی۔بل کے مطابق چاند کی جھوٹی گواہی دینے پر 3 سال قید یا 50 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…