پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

نئی فوجی عدالتیں نہیں بنائی جارہیں،وزیر دفاع

datetime 21  مئی‬‮  2023 |

سیالکوٹ (این این آئی)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئی فوجی عدالتیں نہیں بنائی جا رہیں ، پہلے سے قانون اور عدالتیں موجود ہیں انہیں میں مقدمات چلائے جائیں گے،ہم کسی کے بنیادی حقوق نہیں چھین رہے اور نہ سیاسی مقاصد کیلئے قانون کا استعمال ہوگا، جن شر پسندوں کی فوجی املاک پر حملوں کی ویڈیوز ہیں ان پر مقدمات چلیں گے،موجودہ حالات میں ایک سیاسی رہنما اور لیڈر افواج کو ٹارگٹ کر رہے ہیں

افواج کو ٹارگٹ کرنے میں وہ بیرونی افراد کو بھی شامل کر رہے ہیں، جب ایک ٹولہ مقدس یادگاروں پر حملہ کرے تو شہدا کے خاندانوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں کور کمانڈر ہاس، میانوالی ایئر بیس اور جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے اور سیالکوٹ میموریل پر بھارتی حملے میں فرق نہیں سمجھتا۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو قوم اپنے محسنوں کو بھول جائے یا 9 مئی کے فسادیوں جیسا رویہ اپنائے، ان قوموں کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے نئی فوجی عدالتیں نہیں بنائی جائیں گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی نئی فوجی عدالتیں قائم نہیں کی جا رہی ہیں، قانون پہلے سے موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں اور وہ گزشتہ 75 برسوں سے مسلسل کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کے بنیادی حقوق نہیں چھین رہی، فوجی تنصیبات پر حملہ کرے والے ان افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے جن کی فوٹیجز موجود ہیں اور شناخت ہوچکی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قانون کے مطابق پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ میں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کرتا لیکن 9 مئی کو آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کی نیت اور ان کے اس مٹی سے رشتے پر سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے پاس اقتدار آتا جاتا رہتا ہے لیکن ہم نے کبھی افواج پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے پر سوالیہ نشان نہیں بنایا۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ساری قوم متحد ہوکر افواج پاکستان کا اظہار تشکر کرے اور اس رشتے کو مضبوط بنائے، فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قانون کے مطابق پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…