آپ نیوٹرل نہیں ہو سکتے، نیوٹرل ہو گئے تو آپ کے بچے پچھتائیں گے،آپ کی آنے والی نسلیں پچھتائیں گی، عمران خان کا عوام کو پیغام

  ہفتہ‬‮ 19 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  22:15

لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 26نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پہنچ کر آئندہ کا لائحہ عمل دوں گا،قوم سے کہنا چاہتا ہوں یہ فیصلہ کن وقت ہے، جن کے پاس طاقت ہے جو کسی طرف بھی لے جا سکتے ہیں مثبت یا منفی،ان سے ایک سوال پوچھتا ہوں جن خاندانوں کو نوے کی دہائی

میں کرپشن پر ہٹایا گیاتھا، سوا تین سال کے اندر یہی لوگ کس میں نہا کر آئے کہ ٹھیک ہو گئے اور ایک بار پھر مسلط ہو گئے، آپ ان کا ماضی جانتے تو تھے، کیا ان کے ماضی کا آپ کو پتہ نہیں تھا، کیا چیز ہوئی ان کو پھر ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا، کوئی بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اندر سے مدد نہ ہو، آپ نیوٹرل ہو گئے تو آپ کے بچے پچھتائیں گے آپ کی آنے والی نسلیں پچھتائیں گی۔ ہفتہ کو اپنی رہائشگاہ زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سات ماہ پہلے ہماری حکومت کو ایک بیرونی سازش کے تحت ہٹایا گیا،جب سے ہماری حکومت گرائی تب سے میں میدان میں ہوں،تحریک انصاف سارے پاکستان کے اندر اپنا موقف عوام کے سامنے لے کر جارہی ہے اور عوام کو جگا رہی ہے اور شعور دے رہی ہے،میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر اداکروں وہ کم ہے کہ لوگ جاتے ہوئے ہیں، جو میں نے سات ماہ میں دیکھا وہ 26سال سال کی یاست میں نہیں دیکھا،ایک جاگی ہوئی با شعور قوم ہی اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کرتی ہے، غلام کبھی آزاد ہونے کی کوشش نہیں کرتے اورغلام غلام ہی رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انسان کو جب آزادی کی سمجھ آتی ہے تب وہ کھڑا ہوتا ہے،ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہمارے ساتھ جو پچیس مئی کوکیا گیا اس کو کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ میرے اوپر 23ایف آئی آرز کاٹی گئیں،

سینئر قیادت پر مقدمات کئے گئے،فضل الرحمان نے دو اور ایک بلاول نے لانگ مارچ کیا ہم نے تو کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی، ہم نے کنٹینرز بھی نہیں رکھے، جنرل مشرف کے مارشل لاء میں ایسا ظلم نہیں دیکھا جو ہمارے اوپر ریاست نے ظلم کیا،اس طرح تھا جیسے ہم پاکستانی نہیں ہیں،مجھے ہر قسم کا سول ایوارڈ ملا ہوا ہے مجھے پچاس سال سے لوگ جانتے ہیں

لیکن میرے ساتھ اس طرح سلوک کیا گیا جیسے میں بیرون ملک کا غدار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے پروفیسر شہباز گل کو ننگا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اعظم سواتی کے ساتھ کیا کیا، ملک کی تاریخ میں کبھی ایسی چیزیں نہیں ہوئیں، میاں بیوی کی ویڈیو بنا لی جائے، یہ پیغام دیا گیا کہ عمران خان کے ساتھ بھی یہی کریں گے،یہ سمجھتے تھے عمران خان ڈر جائے گا چپ کر کے بیٹھ جائے گا،

میرے اوپر قاتلانہ حملہ کیا گیا، مجھے اس کی تیاری کا پہلے سے ہی علم تھا کہ دینی انتہا پسند کی آڑ میں حملہ کرایا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں، سیاسی جماعت ہی ملک کو اکٹھا رکھ سکتی کوئی ادارہ اکٹھا نہیں رکھ سکتا،ہم وفاقی جماعت ہیں اس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی،یہ کون کر رہا تھا اس کا کیا مقصد تھا۔ہم سیاست کے لئے مارچ نہیں کر رہے،

مجھے لیٹر آتے تھے کہ اس جلسے میں جائیں گے تو آپ کی جان خطرے میں ہے، اس کے باوجود میں باہر نکلا، مجھے پتہ ہے ابھی بھی میری جان خطرے میں ہے جنہوں نے میری جان لینے کی کوشش کی ابھی بھی وہیں بیٹھے ہیں، اس کے باوجود میں سیاست کے لئے نہیں حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، موت غلامی سے زیادہ بہتر ہے، غلام کی زندگی سے بہتر مر جانا بہتر ہے، خاص طور پر ان چوروں کی غلامی سے جو تیس سال سے ملک لوٹ رہے تھے،

لڑتے تھے اور آج اب اکٹھے بیٹھ گئے ہیں، اب اپنے بچے تیار کر رہے ہیں اس سے بہتر ہیں مر جاؤں، قوم نے فیصلہ کرنا ہے کیا ہم نے اسی طرح چلنا ہے کیا۔انہوں نے کہاکہ آپ کے بچوں نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا،چھوٹی چھوٹی عمروں میں منی لانڈرنگ کے ذریعے ارب پتی بن گئے تھے، بلاول کا سیاست میں مستقبل نظر نہیں آرہا، اس کو اردو آتی نہیں، اس کی زندگی کا زیادہ حصہ جو اس کے باپ نے چوری کر کے پیسے رکھے ہیں اسے ڈھونڈنے میں گزر جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی عظیم قوم ان کی غلامی کرے گی؟قوم کبھی ان کو تسلیم نہیں کرے گی اس لئے ہم مارچ کر رہے ہیں، حقیقی آزادی مارچ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ملک کو حقیقی طور پر آزاد نہیں کراتے ہم مارچ نہیں روکیں گے۔عمران خان نے کہا کہ قوم کسی کی غلامی نہ کرے،کسی سپر پاور کی غلامی نہ کریں، لا الہ اللہ کے نعرے پر پاکستان بنا تھا،یہ ایک دعویٰ ہے کہ میں آزاد ہوں، میں صرف ایک اللہ کے سامنے جھکتا ہوں،یہ خوداری اور قومی غیرت کا دعویٰ ہے،

اس لئے یہ ملک نہیں بنا تھاکہ انگریز سے آزاد ہو کر کسی سپر پاور کی غلامی کریں، قوم کے فیصلے قوم میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے مثال دینا پڑتی ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا، اس کی آزاد خارجہ پالیسی ہے،اس نے کہا ہم رو س سے تیل لیں گے، امریکہ اس کا اتحادی ہے لیکن اس نے اپنے ملک کے مفادات کو دیکھا کہ ہم اپنے لوگوں پر بوجھ نہیں ڈال سکتے اورکھڑے ہو گئے اور امریکہ ناراض ہوا لیکن امریکہ مان گیا۔ جو سازش کے تحت آئے ہیں انہیں سات ماہ ہوگئے ہیں

ان کے دور میں ملک مہنگائی میں ڈوب گیا ہے لیکن انہوں نے روس سے تیل نہیں لیا کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ ان کا آقا کہیں ناراض نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی فیصلہ کریں تو سوچیں کیا میری قوم کا فائدہ ہے یا نہیں، قوم کا فائدہ نہیں تھاجب ہم نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کی اور اپنے 80ہزار لوگ مروا لئے، جو سربراہ تھا دباؤ نہیں لے سکا اور گھٹنے ٹیک دئیے، آصف زرداریا ور نواز شریف کے دور میں چار سو ڈرون حملے ہوئے،ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ کسی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اوروہ آپ پر بمباری کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ دو خاندانوں کا مفاد یہ ہے کہ پیسے کیسے بنانے ہیں اور باہر کیسے لے کر جانے ہیں اور این آر او کیسے لینا ہے اور اپنے بچوں کوکیسے تیار کرنا ہے، پاکستان نیچے جاتا ہے ان کو کیا فرق پڑتا ہے ان کے پیسے توڈالرز میں باہر پڑے ہیں،ان کو یہ نہیں خہ آزاد خود مختار قوم بنیں انہیں بس یہ فکر ہے کہ اقتدار میں آئیں پیسہ کیسے بنے اور بچائیں کیسے۔ انہوں نے کہا کہ قوم قربانیاں دے کر آزاد ہوتی،جب ایک قوم کی صاحب اقتدار چوری کر کے پیسہ باہر لے جارہے ہیں

اور اوورسیز کو کہہ رہے ہیں پیسہ پاکستان میں لائیں وہ کیوں لائیں گے۔ جنگل کے قانون کے اندر انصاف نہیں ہوتا طاقت کی حکمرانی ہوتی ہے، انسانی معاشروں کے اندر انصاف نہیں ہوتا تو جنگل کا قانون بن جاتا ہے، یہاں اعظم سواتی کو انصاف نہیں مل سکتا، ارشد شریف کو انصاف نہیں مل سکتا،ارشد شریف جو ملک سے سازش ہوئی اسے سامنے لارہا تھا، اسے راہ حق پر کھڑا ہونے کی وجہ سے دھمکیاں دی جارہی تھیں اور جان کی دھمکیاں دی گئیں، ارشد شریف کی والدہ کو سب پتہ ہے کون دھمکیاں دے رہا تھا،

ملک کا سابق وزیر اعظم ہوں اور میں ایف آئی آر رجسٹر نہیں کر اسکا، پنجاب میں ہماری حکومت ہے، پولیس افسران نے کہا ہم استعفیٰ دے دیتے ہیں یہ نہیں کر سکتے کیونکہ دوسری طرف طاقتور تھا، اگر ایسے ملک چلانا ہے جو مرضی کر لیں ہم جتنی اچھی پالیسیاں لے کر آ جائیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے،کفر کا نظام چل جائے گا تاہم ظلم او رنا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔ میرے بارے میں گھڑی کی کہانی بنائی گئی،مجھے پاکستان کی عدالتوں سے افسوس سے مجھے یہاں انصاف نہیں ملے گا،

میں امریکہ جا رہا ہوں، برطانیہ اور دبئی میں نجی میڈیا ہاؤس کے خلاف کیس کر رہا ہوں، مجھے پتہ ہے وہاں مجھے انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ میری عزت کی توہین کی ہے وہاں میں کیس لڑا ہوں، ہرجانہ کروں گا اورپاکستانی قوم دیکھے گی کیا ہوگا،ہماری عدالتوں کو بھی اسے دیکھنا چاہیے ہم کیوں لوگوں کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتے،سابق وزیر اعظم یا کسی پر گند اچھالا جائے اورکوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہاں ڈاکو این آر او لے لیتے ہیں کسی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں ہے، انہوں نے اسمبلی سے قانون پاس کرایا جس کی وجہ سے بڑے بڑے ڈاکو بچ رہے ہیں،

1100ارب روپے قوم کو آنا تھا جو سارا انہوں نے اپنے آپ کو این آر دے کر ہضم کر لیا ہے،ہماری جدوجہد طاقتور کو قانون کو نیچے لانے تک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ جن کے پاس طاقت ہے جو کسی طرف بھی لے جا سکتے ہیں مثبت یا منفی،ان سے ایک سوال پوچھتا ہوں،جن خاندانوں کو جنرل مشرف نے نوے کی دہائی میں کرپشن پر ہٹایا تھا، دونوں نے ایکد وسرے پر کرپشن کے کیسز بنائے، مشرف نے جب انہیں ہٹایا تو مٹھائیاں بانٹی گئیں تاہم پھر این آر او دیدیا گیا،ان کے غصے میں 2018ء میں عوا م نے مجھے ووٹ دیا، سوا تین سال کے اندر یہی لوگ کس میں نہا کر آئے کہ ٹھیک ہو گئے

اور ایک بار پھر مسلط ہو گئے، آپ ان کا ماضی جانتے تو تھے، کیا ان کے ماضی کا آپ کو پتہ نہیں تھا، ایجنسیز کے پاس ان کی فائلیں پڑی ہوئی تھیں، تفصیلات ایجنسیز کے پاس پڑی ہوتی ہیں،کیا چیز ہوئی ان کو پھر ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا، کوئی بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اندر سے مدد نہ ہو، سوال یہ ہے کہ سات ماہ بعد ایک چیز بتائیں کہ انہوں نے ملک کے اندر بہتری کی ہو۔ کونسی قیامت آ گئی تھی کہ چوروں کو بٹھا دیا گیا، شاید یہ غلط فہمی ہو شہباز شریف اشتہاروں کے علاوہ بھی ترقی کر سکتا ہے،اسحاق ڈار 90ء کی دہائی میں ملک کو دیوالیہ کر کے گیا اور 2018ء میں بھی ایسا ہی کیا۔

انہوں نے کہاکہ سات ماہ میں 53فیصد دہشتگردی بڑھ گئی ہے، ان کی توجہ صرف ہمیں دیوار سے لگانے اور اپنے کرپشن کیسز پر مرکوز ہے،بتا دیں پاکستان کا کیا فائدہ ہوا، رجیم چینج سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا۔ جو پاکستان پر تنقید کرتے تھے وہ دعائیں کرتے ہیں آپ واپس آئیں۔ چوروں کو آنے دیں کچھ تو سوچا ہوگا، تیس سال کا ٹریک ریکارڈ ان کے سامنے ہے، ان کو بار بار کرپٹ کہا اور دو دو دفعہ کرپشن پر نکالا، ان کی کوئی صفت ہو جو مجھے نظر نہ آرہی ہو۔عمران خان نے کہا کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے، آپ نیوٹرل نہیں ہو سکتے، آپ نیوٹرل ہو گئے تو آپ کے بچے پچھتائیں گے آپ کی آنے والی نسلیں پچھتائیں گی،

جب آپ کو امر بالمعروف پر چلنا چاہے تھا نا انصافی کے خلاف چلنا چاہیے تھا۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر باہر نکلوں لیکن میں نے بچپن سے سوچا تھا کہ غلامی سے بہتر ہے مر جانا۔ میں اپنی ایف آئی آر رجسٹر نہیں کر اسکا مجھے تینوں کاپتہ ہے، سوچ لیں آپ عوام کے پاس کیا حقوق ہیں۔ انسان اور بھیڑ بکریوں میں فرق ہے، انسانوں کے حقوق ہیں، پاکستان میں جنگل کا قانون ہے، جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ مذاق ہے۔عمران خان نے کہا قوم سے کہتا ہوں تیاری کریں، اپنی پارٹی سے بھی کہتا ہوں ابھی سے تیاری کر یں،26نومبر کو سب نے راولپنڈی پہنچنا ہے میں آپ سے وہاں ملوں گا،

آپ یہ سوچیں کلہ تبدیلی آ جائے گی گھر بیٹھے رہیں گے ایسا نہیں ہوتا، اللہ کا فرمان ہے میں کسی قوم کا حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر یہ سوچیں کہ بھیڑ بکریوں کی طرحرہیں اور آزاد ہو جائیں گے ایسا نہیں ہو سکتا۔پنڈی پہنچ کر وہاں پر اگلا لائحہ عمل دوں گا۔ طاقتور حلقے سے ایک چیز کہنا چاہتا ہوں جس سے مرضی پوچھ لیں کہ ملک کو جس دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے اس کا سوائے ایک حل صاف اور شفاف انتخابات کے کوئی نہیں ہے۔بتائیں ان کے پاس کوئی منصوبہ،پوچھے آپ کے پاس روڈ میپ کیا ہے، ان کا روڈ میپ صرف چوری بچانے ہے، ہم مطالبہ کریں گے صاف اور شفاف انتخابات ہوں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اہل لوگوں کی قدر کریں

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎