حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کرلیا

  منگل‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2022  |  16:58

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر غیرقانونی کام کا راستہ روکا جائے گا۔اجلاس میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے امن و امان کی صورتحال اور اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں احسن اقبال، مریم اورنگزیب،

خرم دستگیر، اعظم نذیر تارڑ اور ریاض پیرزادہ شریک ہوئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن وامان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مفاد عامہ کیلئے تمام راستے کھلے رکھیں گے، کسی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من وعن عملدرآمد ہوگا۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق ایسے ہتھکنڈے معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں، ایسے دھرنوں سے معیشت خراب اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہوگا۔ وفاقی حکومت نے کہاکہ وفاق میں ائینی جنگ ہارنے کے بعد عمران خان کے پی کے حکومتی وسائل سے اسلام آباد پر حملہ آور ہیں۔ فیصلہ کیاگیاکہ وفاقی حکومت ریاست کی رٹ کا بھرپور دفاع کرے گی ،عمران خان کے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہونے دی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیاکہ صوبائی اور حکومتوں میں جنگ کی کیفیت سے ملکی سالمیت کو خطرات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے ۔ وفاقی حکومت نے کہاکہ پولیس پر فائرنگ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں،فائرنگ ثبوت ہے کہ یہ پرامن مارچ چاہتے ہی نہیں تھے ۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیاگیاکہ گالیاں برسانے والوں نے گولیاں برسانا شروع کردی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لیاگیا ہے، قانون حرکت میں آئیگا ۔ وفاقی حکومت نے کہاکہ عمران خان مارچ کی آڑ میں ملک میں خانہ جنگی کی سازش کررہے ہیں،کمال احمد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ حکومت نے واضح کیا کہ ملک میں خانہ جنگی، افراتفری ، فساد اور انتشار کو قانون کے راستے سے روکیں گے۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو شہداء پیکج دیں گے۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ شہید اہلکار کے اہل خانہ کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت لے گی،عوام کے جان ومال کی حفاظت کا فرض پورا کریں گے



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎