بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے آسٹریلین ہم منصب کی ملاقات

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے انکی آسٹریلین ہم منصب ماریس پین نے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ،افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، آسٹریلیا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے

مابین دو طرفہ تعلقات ،مشترک تاریخی حوالوں ، عوامی روابط اور کرکٹ سے لگاؤ جیسے یکساں عوامل سے عبارت ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان، آسٹریلیا کے ساتھ اقتصادی، تجارتی ،تعلیمی، دفاعی، زرعی و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کا متمنی ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کا قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے، پاکستان، افغانستان میں بدامنی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، افغانستان میں چالیس سالہ جنگ و جدل کے بعد قیام امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں شدید معاشی بحران کے پیش نظر، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، افغان شہریوں کی معاشی و انسانی بنیادوں پر معاونت کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے،عالمی برادری کو افغانستان کے حوالے سے چیلنجز اور روشن امکانات دونوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔وزیر خارجہ نے آسٹریلوی ہم منصب کو کابل سے مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے اہلکاروں اور میڈیا نمائندگان کے جلد انخلاء کے سلسلے میں جاری پاکستانی معاونت سے آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان نے 37 ممالک کے 21000 باشندوں کو افغانستان سے محفوظ انخلاء میں معاونت فراہم کی، دونوں وزرائے خارجہ کے مابین باہمی دلچسپی کے کثیر جہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے خصوصی تبادلہ خیال ہوا ۔ شاہ محمو دقریشی نے کہاکہ آسٹریلیا میں مقیم ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد پاکستانی اور مختلف آسٹریلوی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بارہ ہزار سے زائد طلبائ،دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہیں۔وزیر خارجہ نے آسٹریلوی ہم منصب کو کرونا وبا کے باعث آسٹریلیا میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کو درپیش سفری مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے، ٹریول ایڈوائزری پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا ۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی موجودہ نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ،وزیر خارجہ نے آسٹریلوی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…