بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کی جانب سے بغیرتحقیق الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات اٹھانا بدنیتی پر مبنی ہے، شبلی فراز

datetime 12  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بغیرتحقیق الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات اٹھانا بدنیتی پر مبنی ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاسی پوائنٹ سکورننگ کرنے کی بجائے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر تعمیری کردار ادا کریں۔ یک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ

صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے، بدقسمتی سے ملک میں ہر انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتیں دھاندلی کا واویلا شروع کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے انتخابات متنازع بن جاتے ہیں، موجودہ حکومت ملک میں انتخابات کی بنیاد کو درست کرنا چاہتی ہے، چاہتے ہیں کہ ایسے انتخابات ہوں جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ہمیشہ دھوکے سے انتخابات جیتے ہیں اسلئے یہ نہیں چاہتیں کہ انتخابات شفاف ہوں، ہم اپوزیشن کو بارہا دعوت دے چکے ہیں کہ اپنے تکنیکی ماہرین کو ساتھ لیکر آئیں اور مشین دیکھ کر اپنی تسلی کر لیں، وزیراعظم عمران خان بھی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن اپوزیشن کا رویہ شروع سے ہی غیرذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو چاہیے کہ خود کو متنازع نہ بنائیں لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بغیر کسی تحقیق کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات اٹھا کر خود کو متنازع بنا دیا ہے، الیکشن ایکٹ 2017کا آرٹیکل 103 بھی اجازت دیتا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کا انعقاد کیا جائے، ہم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ضروریات کے مطابق مشین تیار کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے اداروں کو غیرفعال بنایا تاہم عوام نے تحریک انصاف حکومت کو اداروں کو ٹھیک کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، رکاوٹوں کے باوجود موجودہ حکومت اداروں کو ٹھیک کرنے کیلئے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہماری رائے نہیں سنی گئی اسلئے ہم نے واک آٹ کیا، اپوزیشن نے بجائے ہم سے بات کرنے کے بل مسترد کر دیا، ہم (آج) پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت پانچ ترامیم منظور کرانے کیلئے پر امید ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…