جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں پانی فروخت کرنے والے 22 برانڈز کا پانی پینے کے قابل نہیں،انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ قرار

datetime 10  جولائی  2021 |

لاہور(این این آئی)آبی وسائل سے متعلق تحقیق کی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر)نے تصدیق کی ہے کہ 22 برانڈز کا پینے کا پانی انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پی سی آر ڈبلیو آر کو سہ ماہی بنیاد پر بوتلوں یا منرل واٹر کے برانڈز کا معائنہ کرنے اور

صحت عامہ کے مفاد میں اس کے نتائج عوامی سطح پر تشہیر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، کراچی، ٹنڈو جام، بدین، کوئٹہ، لورالئی، پشاور، ایبٹ آباد، سیالکورٹ، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، مظفر آباد اور گلگت سے برانڈ کے پانی کے 180 نمونے حاصل کیے گئے۔ان نمونوں کے نتائج پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے تعین کردہ پیمانے سے ملانے پر معلوم ہوا کہ 22 برانڈز ایسے ہیں جن کا پانی انسانی زندگی کے لیے غیر محفوظ ہے۔15برانڈز میں سوڈیم کی مقدار 60 سے 165 ملی گرام فی لیٹر کے باعث مضر صحت قرار دیا گیا،پی ایس کیو سی اے کے مطابق پانی میں سوڈیم کی مقدار 50 ملی گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک برانڈ کے پانی میں ٹوٹل ڈیزولوڈ سولڈ (ٹی ڈی ایس)کی مقدار 629 ملی گرام فی لیٹر ہونے کے باعث غیر محفوظ قرار دیا گیا، پی ایس کیو سی اے کے پانی کے معیار کے مطابق ایک لیٹر پانی کی بوتل میں 500 ملی گرام ٹی ڈی ایس کی تعداد ہونی چاہیے۔ایک اوربرانڈ میں آرسینیک کی مقدار 24 مائیکرو گرام فی لیٹر پائی گئی، کنٹرول اتھارٹی کے معیار کے مطابق پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار 10 مائیکرو گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک پانی کی برانڈ میں پی ایس کیو سی اے کی متعین کردہ مقدار 10

ملی گرام فی لیٹر کے بجائے 11 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔6 برانڈزکا پانی مائیکروبائیولوجیکل طور پر آلودہ پایا گیا جس پر اسے پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ہر تین مہینے بعد برینڈز کے پانی کو چیک کیا جائے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…