ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پانی فروخت کرنے والے 22 برانڈز کا پانی پینے کے قابل نہیں،انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ قرار

datetime 10  جولائی  2021 |

لاہور(این این آئی)آبی وسائل سے متعلق تحقیق کی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر)نے تصدیق کی ہے کہ 22 برانڈز کا پینے کا پانی انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پی سی آر ڈبلیو آر کو سہ ماہی بنیاد پر بوتلوں یا منرل واٹر کے برانڈز کا معائنہ کرنے اور

صحت عامہ کے مفاد میں اس کے نتائج عوامی سطح پر تشہیر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، کراچی، ٹنڈو جام، بدین، کوئٹہ، لورالئی، پشاور، ایبٹ آباد، سیالکورٹ، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، مظفر آباد اور گلگت سے برانڈ کے پانی کے 180 نمونے حاصل کیے گئے۔ان نمونوں کے نتائج پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے تعین کردہ پیمانے سے ملانے پر معلوم ہوا کہ 22 برانڈز ایسے ہیں جن کا پانی انسانی زندگی کے لیے غیر محفوظ ہے۔15برانڈز میں سوڈیم کی مقدار 60 سے 165 ملی گرام فی لیٹر کے باعث مضر صحت قرار دیا گیا،پی ایس کیو سی اے کے مطابق پانی میں سوڈیم کی مقدار 50 ملی گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک برانڈ کے پانی میں ٹوٹل ڈیزولوڈ سولڈ (ٹی ڈی ایس)کی مقدار 629 ملی گرام فی لیٹر ہونے کے باعث غیر محفوظ قرار دیا گیا، پی ایس کیو سی اے کے پانی کے معیار کے مطابق ایک لیٹر پانی کی بوتل میں 500 ملی گرام ٹی ڈی ایس کی تعداد ہونی چاہیے۔ایک اوربرانڈ میں آرسینیک کی مقدار 24 مائیکرو گرام فی لیٹر پائی گئی، کنٹرول اتھارٹی کے معیار کے مطابق پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار 10 مائیکرو گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک پانی کی برانڈ میں پی ایس کیو سی اے کی متعین کردہ مقدار 10

ملی گرام فی لیٹر کے بجائے 11 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔6 برانڈزکا پانی مائیکروبائیولوجیکل طور پر آلودہ پایا گیا جس پر اسے پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ہر تین مہینے بعد برینڈز کے پانی کو چیک کیا جائے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…