پاکستان میں پانی فروخت کرنے والے 22 برانڈز کا پانی پینے کے قابل نہیں،انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ قرار

  ہفتہ‬‮ 10 جولائی‬‮ 2021  |  0:08

لاہور(این این آئی)آبی وسائل سے متعلق تحقیق کی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر)نے تصدیق کی ہے کہ 22 برانڈز کا پینے کا پانی انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پی سی آر ڈبلیو آر کو سہ ماہی بنیاد پر بوتلوں یا منرل واٹر کے برانڈز کا معائنہ کرنے اورصحت عامہ کے مفاد میں اس کے نتائج عوامی سطح پر تشہیر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، کراچی، ٹنڈو جام، بدین، کوئٹہ، لورالئی، پشاور، ایبٹ


آباد، سیالکورٹ، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، مظفر آباد اور گلگت سے برانڈ کے پانی کے 180 نمونے حاصل کیے گئے۔ان نمونوں کے نتائج پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے تعین کردہ پیمانے سے ملانے پر معلوم ہوا کہ 22 برانڈز ایسے ہیں جن کا پانی انسانی زندگی کے لیے غیر محفوظ ہے۔15برانڈز میں سوڈیم کی مقدار 60 سے 165 ملی گرام فی لیٹر کے باعث مضر صحت قرار دیا گیا،پی ایس کیو سی اے کے مطابق پانی میں سوڈیم کی مقدار 50 ملی گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک برانڈ کے پانی میں ٹوٹل ڈیزولوڈ سولڈ (ٹی ڈی ایس)کی مقدار 629 ملی گرام فی لیٹر ہونے کے باعث غیر محفوظ قرار دیا گیا، پی ایس کیو سی اے کے پانی کے معیار کے مطابق ایک لیٹر پانی کی بوتل میں 500 ملی گرام ٹی ڈی ایس کی تعداد ہونی چاہیے۔ایک اوربرانڈ میں آرسینیک کی مقدار 24 مائیکرو گرام فی لیٹر پائی گئی، کنٹرول اتھارٹی کے معیار کے مطابق پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار 10 مائیکرو گرام فی لیٹر ہونی چاہیے۔ایک پانی کی برانڈ میں پی ایس کیو سی اے کی متعین کردہ مقدار 10ملی گرام فی لیٹر کے بجائے 11 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔6 برانڈزکا پانی مائیکروبائیولوجیکل طور پر آلودہ پایا گیا جس پر اسے پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ہر تین مہینے بعد برینڈز کے پانی کو چیک کیا جائے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎