ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈال دیا

datetime 9  مئی‬‮  2021 |

لندن ٗملتان ٗکراچی(این این آئی)برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی پاکستان کو کورونا کی ریڈ لسٹ میں ڈال دیا۔پاکستان سے فرانس جانے والوں کو پندرہ روز قرطینہ میں رہنا ہو گا، عید منانے کیلئے پاکستان جانے والوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔فرانس نے سری لنکا، نیپال، متحدہ عرب امارات سمیت 7 نئے ممالک سے آنے والوں پر بھی قرنطینہ لازم کردیا ہے۔فرانس میں پاکستانی کمیونٹی کے

مطابق میکرون حکومت کے اقدام سے ان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔دوسری جانب ملتان میں لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے پر پچاس کاروباری مراکز اور دکانیں سیل کردی گئیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے اور کورونا ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کرنے پر دو افراد گرفتار اور دو کے خلاف مقدمات بھی درج کئے گئے اس کے علاوہ مسافر بسوں میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 13 بسوں کو بھی تحویل میں لیا گیا اور بس مالکان کو 50 ہزار سے زائد جرمانے کئے گئے۔اسی طرح سحری کے اوقات میں دکانیں کھولنے والوں کو ایک لاکھ روپے جرمانے عائد کئے گئے۔علاوہ ازیں جامعہ کراچی کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے کیسز میں سے 70فیصد وائرس برطانیہ میں پہلی بار دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق پاکستان میں پھیلنے والے وائرس میں سے 60 سے 70

فیصد کیسز برطانوی طرز کے ہیں۔انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز کووڈـ19 کے نمونوں پر تحقیق کرتا ہے اور اس حوالے سے تحقیق کے نتائج اور اعدادوشمار حکومت کو فراہم کرتا ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ برطانوی طرز کا وائرس B.1.1.7 کے نام سے مشہور ہے اور اس کی تشخیص گزشتہ سال کے اواخر میں برطانیہ میں ہی ہوئی تھی اور یہ مانا جاتا ہے کہ وائرس کی

دیگر کسی قسموں کے مقابلوں میں اس کی منتقلی کی شرح انتہائی زیادہ ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وائرس زیادہ جان لیوا ہے یا نہیں،انہوں نے کہا کہ بھارت میں بھی وائرس کی ایک طرز کی تشخیص ہوئی جس کی وجہ سے پڑوسی ملک میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے البتہ اس طرز کا ابھی تک کوئی بھی کیس پاکستان میں رپورٹ نہیں ہوا تاہم اس کی وجہ یہ ہے کہ

ابھی تک B.1.617 نام سے مشہور اس وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کٹ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرز کے وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کٹ کا آرڈر دے دیا گیا ہے اور یہ بہت پاکستان پہنچ جائیں گی۔ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ اس کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں کہ وائرس کی اس طرز کے کیسز پاکستان پہنچ چکے ہوں کیونکہ عرب ریاستوں میں دونوں ملکوں کے لوگوں کے آپس میں روابط رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…