کورونا کی تیسری لہر آئی ایم ایف نے پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے کا عندیہ دیدیا

  بدھ‬‮ 14 اپریل‬‮ 2021  |  16:15

اسلام آباد(آن لائن) آئی ایم ایف کی نمایندہ ٹریسا دوبان نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے پرغور ہوسکتا ہے۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کیلیے کورونا ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کورونا کے اخراجات کے لیے ویلتھ ٹیکس لگانا یا لگانا، پارلیمنٹ کا کام ہے۔ پاکستان ٹیکسگزاروں کو بڑھا کر بھی آمدن بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کی اصلاحات چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس کی چھوٹ محدود کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مستحکم


ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں غریب طبقے کی مدد کرنا ضروری ہے۔ توانائی کے نقصانات کم کرنا پاکستان کے لیے ضروری ہیں۔ کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف چل پڑی تھی۔انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے اہداف پر عمل درآمد بھی ہو رہا تھا۔ پاکستان میں قرضے اور حکومتی گارنٹیز معیشت کے 92.8 فی صد تک پہنچ گئیں ہیں۔ غیریقینی عالمی حالات پاکستان کے لیے چیلنج ہیں۔ ا پاکستان کو پانچ بنیادوں پر مشتمل پیکج دیا گیا ہے، نمایندہ آئی ایم ایف نے کہا پہلی بنیاد معاشی نظم و ضبط ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی ۔ پاکستان کو ٹیکس کی چوری روکنا ہوگی۔ مانیٹری پالیسی میں ایکس چینج ریٹ میں استحکام دوسری بنیاد ہے۔ ا منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے،ٹریسا دوبان نے کہا پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کی اصلاحات پاکستان کے لیے چوتھی بنیاد ہیں، پاکستان کو سرکلر ڈیٹ منجمنٹ کرنا ہوگی۔ پاکستان کو بجلی کے ریٹ بڑھانا ہوں گے، ٹریسا دوبان نے کہا پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات پانچویں بنیاد ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر کوئی ڈکٹیشن نہیں دی۔ انہوں نے کہا کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کو مزید فنڈنگ کرسکتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎