ملک میں فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

  پیر‬‮ 12 اپریل‬‮ 2021  |  19:28

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر 2017 کی مردم شماری منظور کرتے ہوئے فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے،ضمنی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے ہو سکتے ہیں،مقامی حکومتوں کے انتخابات نئی مردمشماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے، اس میں عدلیہ کی بھی بہت زیادہ دلچسپی ہے،مشترکہ مفادات میں مردم شماری کا آڈٹ وغیرہ کرنے کا طریقہ نہیں، آپ اسے منظور کریں یا مسترد کردیں، پرانی مردم شماری ہمیں قبول نہیں، اسے منظور یا مسترد


کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے،اگلے چھ سے 8 ہفتے کے اندر نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار کر لیا جائیگا،جون کے وسط تک یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ہم مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لے لیں گے۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے کابینہ کی کمیٹی بھی بنا دی گئی تھی اور انہوں نے اس حوالے سے اپنی سفارشات بھی مرتب کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری الیکشن کی بنیاد بنتی ہے اور تازہ ترین حلقہ بندیوں کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں اور اسی کی بنیاد پر الیکشن کرائے جاتے ہیں جبکہ 2018 کے الیکشن کو خاص آئینی ترمیم کے ذریعے خصوصی استثنیٰ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ضمنی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے ہو سکتے ہیں لیکن مقامی حکومتوں کے انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے اور اس میں عدلیہ کی بھی بہت زیادہ دلچسپی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 2023 الیکشن سے پہلے مردم شماری پر حتمی فیصلہ نہ ہو تو آئینیترمیم کا استثنیٰ ختم ہونے کے سبب اگلا الیکشن 1998 میں ہوئی مردم شماری کی بنیاد پر ہو گا جس کے نتیجے میں تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلی میں نمائندگی کم ہو جائے گی اور پنجاب کی نمائندگی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری پر ملک بھر میں سوالات اٹھائے گئے اور جب ملک کے کئی حصوں سے سوالاتاٹھائے جا رہے ہوں تو یہ ملک کی یکجہتی کیلئے اچھی چیز نہیں ہے، اس پر اتفاق رائے اور عوام کو اعتماد ہونا چاہیے لہٰذا اگر ملک کے کئی علاقوں سے سوالیہ نشان کھڑے ہو جائیں تو یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مشترکہ مفادات میں مردم شماری کا آڈٹ وغیرہ کرنے کا طریقہ نہیں ہے، آپ اسے منظور کریں یا مستردکردیں، اگر اہم ان دونوں میں سے کوئی بھی فیصلہ نہیں لیتے تو نئی مردم شماری کرانے سے ہم قاصر ہیں، پرانی مردم شماری ہمیں قبول نہیں ہے لہٰذا اسے منظور یا مسترد کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔اسد عمر نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اکثریت رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ مردمشماری کے نتائج کی منظوری دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگلی مردم شماری کے لیے 10سال انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس مردم شماری پر سوالیہ نشان موجود ہے لہٰذا فوری بنیاد پر نئی مردم شماری کرانی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ہم نے چند ماہ قبل ڈپٹی کمشنر پلانگکمیشن کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل ٹیم بنائی تھی جس میں سرکاری لوگ اور مردم شماری پر مہارت رکھنے والے ماہرین شماریات بھی موجود ہیں اور وہ کافی حد تک کام مکمل بھی کر چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگلے چھ سے 8 ہفتے کے اندر نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار کر لیا جائے گا کیونکہ ہم نے پرانے طریقہ کار کے مطابقمردم شماری نہیں کرانی۔انہوں نے کہا کہ جون کے وسط تک یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ہم مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لے لیں گے اور اس منظوری کے چار ماہ کے بعد اس پر کام شروع کیا جا سکتا ہے، اسی سال اکتوبر میں تک نئی مردم مشاری پر کام شروع ہو جائے گا اور 18 مہینے کا عمل 2023 کے ابتدائی چھماہ میں مکمل ہو جائے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مردم شماری کی مں ظوری کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا جس میں وفاق کے 7 اراکین، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔اسد عمر نے 2017 کی مردم شماری پر سندھ حکومت کے اعتراضاتکے بارے میں کہا کہ یہ کام اسی صوبائی حکومت کی نگرانی میں ہوا جس نے آج فیصلے کی مخالفت کی، جو بھی رزلٹ مردم شماری کے آئے اس میں صوبائی حکومتوں کی مکمل شمولیت تھی، نہ صوبے میں نہ وفاق میں اسوقت تحریک انصاف کی حکومت تھی، اگر اس مردم شماری کو نہیں مانتے تو کیا1998 پرچلے جائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎