بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

’’آئین سے غداری کر کے نہ صرف اس جہاں بلکہ اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی ‘‘

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ محافظین آئین نے ہی آئین کے تحفظ کی قسم توڑی۔ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام میں بنیادی حقوق اور آئین کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ

قائدِاعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا، قائد اعظم نے فرمایا کہ اسلام میں سب برابر ہیں اور عدل وانصاف کا بول بالا ہونا چاہیے، آئین ہر شہری عیسائی، ہندو و دیگر مذاہب کو بھی تحفظ دیتا ہے، ہم نے آئین نہیں سیکھا ،ہم نے تو اس کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں کیا، بلکہ ہم نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو قرآن کریم کے ساتھ کرتے ہیں، لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور محافظین آئین نے جو قسم اٹھائی وہ انہوں نے توڑی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی اسکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے، امریکی اسکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمری سے ہی طلباء کو آئین کا معلوم ہو، آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا، ہمارے پاس اس وقت نصف پاکستان ہے کیونکہ آدھا حصہ ہم سے جدا ہو چکا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، جس کی اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی، اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ پورے عالم پر اختیار اللّہ کا ہے، اسلام نے مزدوروں کے تحفظ پر خصوصی زور دیا، اسلام میں ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کو اس کا معاوضہ دیا جائے۔#/s#



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…