ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

براڈ شیٹ کو دئیے گئے چیک پر میرے دستخط نہیں، انکوائری رپورٹ میں ابہام، سابق ہائی کمشنرعبدالباسط کا ردعمل بھی آ گیا

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن) براڈ شیٹ انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار قرار دئیے جانے پر سابق ہائی کمشنرعبدالباسط نے کہا ہے کہ انکوائری کمیشن رپورٹ میں ابہام ہے، ایسا تاثر ملتا ہے جیسے تمام رقم میں نے ادا کی، حالا نکہ براڈ شیٹ کو دیے گئے چیک پر میرے دستخط نہیں، مجھے پیمنٹ ریکارڈ اور ایگریمنٹ کی کاپی واپس پاکستان بھیجنے کا کہا

گیا، میں نے ہدایات کے مطابق تمام اوریجنل ریکارڈ ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے پاکستان بھجوا دیا، میں کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ہوں اور نہ ہی سیٹلمنٹ اگریمنٹ میں نے طے کیا، میرا کام دی جانے والی ہدایات کی قانونی جانچ پڑتال نہیں، کیوں کہ ہائی کمیشن تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راڈ شیٹ انکوائری رپورٹ پر ردعمل سابق سفیر عبدالباسط نے کہا ہے کہ مئی 2008ء میں پاکستانی ہائی کمیشن کو کہا گیا کہ براڈ شیٹ جبرالٹر کے ساتھ سیٹلمنٹ اگریمنٹ فائنل ہوگیا ہے ہمیں کہا گیا جیری جیمز آئیں گے انھیں پیمنٹ کیلیے چیک دے دیا جائے، سفارتخانے کے پاس خطیر رقم نہیں ہوتی، اس لیے اسپیشل ریمی ٹینس کے ذریعے ہائی کمیشن پیسے بھیجے گئے، 19 مئی تک پیسے نہیں آئے تو فیکس کے ذریعے دفترِخارجہ کو مطلع کیا۔انہوں نے بتایا کہ براڈ شیٹ کو 2 اقساط میں رقم کی ادائیگی کی گئی، پہلی قسط میں 6 لاکھ اور چند ہزار ڈالرز ادا کیے گئے اس کے بعد میرا ٹرانسفر ہوگیا، دوسری قسط ستمبر کے مہینے میں ادا کی گئی جب میرا لندن سے تبادلہ ہوچکا تھا، اگر براڈ شیٹ میں کوئی مسئلہ تھا تو دوسری قسط کیوں بھیجی گئی۔ سابق سفارتکار کے مطابق ہائی کمیشن کو ہدایات نیب نے براہِ راست دیں، ہائی کمیشن کو ہدایات اور ان پر عملدرآمد معمول کی کارروائی ہوتی ہے میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ کام اسی طرح ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…