بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

بیوروکریسی نے ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پاکستان لندن مشن سمیت براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہر جگہ سے غائب تھا،براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)براڈ شیٹ کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ساتھ قومی احتساب بیورو (نیب) کے سوا متعلقہ حکومتی اداروں میں سے کسی نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی گئی جس میں بتایا گیا کہ بیوروکریسی نے ریکارڈ

چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پاکستان لندن مشن سمیت براڈشیٹ کا ریکارڈ تقریباً ہر جگہ سے غائب تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن کے سربراہ نے طارق فواد اور کاوے موسوی کا بیان ریکارڈ کرنا مناسب نہ سمجھا۔بتایا گیا کہ نیب کے سوا متعلقہ حکومتی اداروں میں سے کسی نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسٹ ریکوری معاہدہ حکومتی اداروں کا بین الاقوامی قانون نہ سمجھنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔رپورٹ کے مطابق کاووے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل نہیں ہے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومت چاہے تو کاووے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کرواسکتی ہے۔کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) عظمت سعید نے رپورٹ میں نوٹ لکھا کہ مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت گیدڑوں کی موجودگی بھی ہوتی تھی، لیکن گیدڑ بھبھبکیاں انہیں کام کرنے سے نہیں روک سکتیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ براڈشیٹ کو ادائیگی کا معاہدہ 22 لاکھ ڈالر میں کیا گیا تھا، احمر بلال صوفی نے اسوقت کے براڈشیٹ کے چیئرمین جیری جیمز سے رابطہ کیا تھا، جیری جیمز جس سے پہلا معاہدہ کیا گیا اس کا براڈشیٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔کمیشن نے رپورٹ میں کہا کہ اْس وقت کے نیب چیئرمین نوید احسان بھی اس معاہدہ میں شامل تھے تاہم رپورٹ میں نوید احسان کے بیان کا

حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین نیب نے بیان دیا تھا کہ احمر بلال نے جیری جیمز کے ساتھ معاہدے سے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نیب کے افسر حسن ثاقب شیخ بھی معاہدے کے ساتھ جڑے تھے۔بتایا گیا کہ پہلا سیٹلمنٹ معاہدہ براڈشیٹ ایل ایل سی جبرالٹر کے ساتھ ہوا تھا، جبرالٹر نام کی ایسی کوئی کمپنی نہیں تھی جس کے ساتھ پاکستان نے کبھی معاہدہ کیا ہو۔براڈ شیٹ کمیشن نے جج کلیم خان جو اس وقت وزارتِ قانون میں تھے، کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…