جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیان بازی کے بعد فضل الرحمن بھی میدان میں آگئے، آصف زرداری اور نواز شریف سے رابطہ تینوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟تفصیلات آگئیں

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے اور دونوں پارٹی کے قائدین اور رہنماؤں کو ایک دوسرے کیخلاف بیان نہ دینے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ ایسے بیانات سے پی ڈی ایم کی تحریک کو شدید نقصان پہنچے گا،دونوں رہنماؤں نے مولانا کی تجویز کی حمایت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ نے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں کی ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کا مشترکہ فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے،پی ڈی ایم کے فیصلوں کے مطابق سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نشست مسلم لیگ (ن) دینے کی حمایت کی گئی تھی،امید ہے پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے مشترکہ فیصلوں کا احترام کرے گی،ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز لاہور میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بیان کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ایسے بیانات سے پی ڈی ایم کی تحریک کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی شروع کر دیں تو تحریک کا مقصد ختم ہو جائیگا،اس حوالے سے پارٹی قیادت کو نوٹس لینا چاہیے اور پارٹی رہنماؤں کو فوری بیان بازی سے روکنا چاہیے۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورت

حال پر گفتگو کی اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا،دونوں رہنماؤں نے تمام معاملات مل جل کر حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری سے

ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو پر نواز شریف کو اعتماد میں لیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، مولانا فضل لارحمن نے دونوں رہنماؤں پر ایک دوسرے کے مخالف بیان بازی سے گریز کا مشورہ دیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کو متنازعہ بیانات سے

نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا ہم حکومت کے خلاف متحد ہونے ہیں ایک دوسرے سے لڑنے کیلئے نہیں، اس پر نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کی تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ ہماری پارٹی کی جانب سے کوئی بیان بازی نہیں کی گئی بلکہ پارٹی قائدین اور رہنماؤں کو

ہدایت جاری کررکھیں ہیں کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی بھی سیاسی بیان کا جواب نہ دیا جائے،نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب بھی تحریکیں شروع ہوتی ہیں اور ایسے ہی مشکلات بھی پیش آتے ہیں تاہم ہمیں ان مشکلات سے متحد ہو کر نکلنا ہے اور مقاصد حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…