اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ملتان میں آم کے درختوں کی کٹائی کی اصل کہانی ہے کیا ؟ اصل معاملہ تو اب کھل کر سامنے آیا،اہم انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں آم کا موسم ابھی شروع نہیں ہوا، مگر سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ طور پرڈی ایچ اے کی جانب سے سوسائٹی کی تعمیر کے لیے ملتان میں بڑے پیمانے پر آم کے درختوں کی کٹائی کی ہیں۔بی بی سی کے مطابق ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا

پر بعض صارفین اور سماجی کارکنان کا خیال ہے کہ جہاں ایک طرف حکومت ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے اربوں درخت لگا رہی ہے وہیں اس طرح کے رہائشی منصوبوں کے لیے زرعی زمین یا درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی غیر قانونی ہونی چاہیے۔مقامی افراد اور حکام نے تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز ملتان کے بوسن روڈ اور شجاع آباد روڈ پر واقع آم کے باغات کی کٹائی کی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے بعد ڈی ایچ اے پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن کم از کم جن ویڈیوز پر یہ حالیہ بحث جاری ہے یہ ڈی ایچ اے کی نہیں ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو، جس میں آم کے درخت کاٹ کر ایک ٹریکٹر ٹرالی پر رکھے جارہے ہیں، یہ بوسن روڈ کی ہے۔ایک مقامی زمیندار نے بوسن روڈ والی ویڈیو کے بارے میں بتایا کہ یہ سات سے آٹھ ماہ پرانی ہے۔ بوسن روڈ کی یہ جگہ سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کے منصوبے فیز ون کے لیے استعمال ہو رہی ہے جبکہ باقی

کی ویڈیوز جن میں درختوں کو کٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے یہ شجاع آباد روڈ کی ہیں جہاں پر اسی سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کے فیز ٹو پر کام ہو رہا ہے۔مینگو گروور ایسوسی ایشن ملتان کے صدر طارق خان کے مطابق ایک ویڈیو شجاع آباد روڈ کے علاقے نشتر ٹو کی ہے جہاں

سٹی ہائوسنگ سوسائٹی نے اپنے فیز ٹو منصوبے کی تعمیر کا اعلان کر رکھا ہے۔ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی آغا علی عباس نے بتایا کہ سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کو بوسن روڈ پر فیز ون پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس میں وہ خریدی گئی زمینوں پر درختوں کی کٹائی

سمیت ہر قسم کا ترقیاتی کام کر سکتے ہیں۔تاہم شجاع آباد روڈ پر سٹی ہاسنگ سوسائٹی کو فیز ٹو پر منصوبہ شروع کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی جس میں ابھی وہ درختوں کی کٹائی سمیت کوئی بھی تعمیراتی کام شروع نہیں کرسکتے ۔ان کے مطابق وہ شجاع آباد روڈ پر ہونے والی درختوں کی کٹائی سے متعلق تحقیقات کریں گے کیونکہ ابھی تک وہاں تعمیراتی کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…