جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

استعفوں سے انکار کے بعد پیپلز پارٹی کا ایک اور بڑا فیصلہ مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف ہاتھ ملتے رہ گئے

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی جانب سے پیپلز پارٹی کو حمایت کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس سینیٹ میں اپنے 21 ووٹ ہیں جب کہ اے این پی اور بی این پی مینگل کے

سینیٹ میں 2،2 ارکان ہیں۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے شیری رحمان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیے جانے کا امکان ہے اور پیپلزپارٹی 25 سینٹرز کے دستخط والی درخواست چند روز میں سینیٹ سیکرٹریٹ میں دے گی۔دوسری جانب  پی ڈی ایم کے سربرا ہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ ہو ا ہے ۔دونوں رہنمائوں نے گزشتہ روز ہونے والے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں آصف زرداری کے رویہ پر دکھ کا اظہار اور آئندہ کی حکمت عملی پر غوروغوض کیا گیا اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر اتفاق کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق دونوں قائدین کے درمیان سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کے درمیان پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہونے والی تلخ گفتگو پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی ایسی گفتگو سے دکھ اور تکلیف پہنچی ہے، ہم 90 کی دہائی کی سیاست دفن کر کے آگے بڑھے تھے پھر الزام تراشی کیوں کی گئی؟ جس کے جواب میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے خود آصف علی زرداری کے غیرجمہوری رویے سے دکھ ہوا ہے ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…