اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

مسترد شدہ ووٹوں کامعاملہ مزید پیچیدہ سابق اٹارنی جنرلز نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن)سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کہا ہے کہ مسترد شدہ ووٹ کامعاملہ آرٹیکل 69 کے تحت عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اگر ووٹ پر کوئی نشان لگ جائے جس سے ووٹ قابل شناخت ہو تو وہ ووٹ مسترد ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت معاملہ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے2007 میں ایک کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ووٹر کی نیت اگر کسی بھی طرح ظاہر ہوجائے تو اس کو رد کیا جا سکتا ہے اور 2013 میں بھی ایک کیس میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہاکہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ ہونا چاہیے تھا،جب میں نے بیلٹ پیپر نہیں دیکھا تھا تو اس میں ابہام موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نام پر مہر لگائی جائے تو وہ ووٹ مسترد نہیں ہوتا،پریذائیڈنگ آفیسر کی رولنگ سن کر افسوس ہوا۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل199کے تحت عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا آئینی موقف ماناجاتا تو انتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔ آئین کے مطابق شفاف انتخاب کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سات ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) میں فری اینڈ فیئر قانون کے مطابق انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کرپٹ پریکٹس روکنا آئینی مینڈیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودٹیکنالوجی استعمال نہ ہوئی، وزیراعظم عمران خان کاآئینی موقف ماناجاتاتوانتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…