جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

مسترد شدہ ووٹوں کامعاملہ مزید پیچیدہ سابق اٹارنی جنرلز نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 14  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن)سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کہا ہے کہ مسترد شدہ ووٹ کامعاملہ آرٹیکل 69 کے تحت عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اگر ووٹ پر کوئی نشان لگ جائے جس سے ووٹ قابل شناخت ہو تو وہ ووٹ مسترد ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت معاملہ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے2007 میں ایک کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ووٹر کی نیت اگر کسی بھی طرح ظاہر ہوجائے تو اس کو رد کیا جا سکتا ہے اور 2013 میں بھی ایک کیس میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہاکہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ ہونا چاہیے تھا،جب میں نے بیلٹ پیپر نہیں دیکھا تھا تو اس میں ابہام موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نام پر مہر لگائی جائے تو وہ ووٹ مسترد نہیں ہوتا،پریذائیڈنگ آفیسر کی رولنگ سن کر افسوس ہوا۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل199کے تحت عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا آئینی موقف ماناجاتا تو انتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔ آئین کے مطابق شفاف انتخاب کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سات ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) میں فری اینڈ فیئر قانون کے مطابق انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کرپٹ پریکٹس روکنا آئینی مینڈیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودٹیکنالوجی استعمال نہ ہوئی، وزیراعظم عمران خان کاآئینی موقف ماناجاتاتوانتخابی عمل پرکوئی سوال نہ اٹھتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…