وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  13:22

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا، وزیراعظم نے 178 ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح یہ مرحلہ بھی مکمل ہو گیا۔ اگست 2018ء میں عمران خان 176ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور اظہاررائے کا حامی ہوں، جسرکن کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ ابھی کھل کر اظہارکرے، آپ ضمیر کی آواز ووٹ دیں  اگر میں غلط ہوں تو میرا ساتھ بیشک چھوڑ دیں، ہار جیت اور نشیب وفراز سمجھتا ہوں اور مجھ سے زیادہ کسی نے ہار جیت نہیں دیکھی ہر مشکل


سے سرخرو ہو کر نکلا ہوں،جن لوگوں نے ووٹ بیچے ہیں ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے،وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلہ پر ارکان کو اعتماد میں لیا،پی ٹی آئی ارکان نے اجلاس میں وزیراعظم کے حق میں نعرے لگائے اجلاس کے دوران خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ارکان جذباتی ہوگئے اور کہا کہ وزیر اعظم صاحب حلقہ ہم سنبھالیں گے آپ اپنے مقصد پرڈٹے رہیں۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ لینے کے حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی اور اراکین کو ہر صورت میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران حکومتی و اتحادی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کا شکر گزارہوں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، زندگی میں مجھ سے زیادہ ہار جیت کسی نے نہیں دیکھی اور مجھ پر کوئی نہ کوئی مشکل آتی رہی ہے لیکن ہر مشکل سےسرخرو ہو کر نکلا ہوں۔انہوں نے کہاکہ جس رکن کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ ابھی کھل کر اظہارکرے،  میں اس کی بھی قدر کروں گا کیونکہ اظہار رائے ہر ایک کا حق ہوتا ہے اور جمہوریت اور اظہاررائے کا حامی ہوں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے 16ارکان نے پیسے لے کرسینیٹ میں ہمارے ساتھ دھوکہ کیا کیونکہ پیسے لے کر ووٹ دینا بدنیتی ہے۔وزیراعظم نے اراکین سے کہا کہ آپ ضمیر کی آواز ووٹ دیں اگر میں غلط ہوں تو میرا ساتھ بیشک چھوڑ دیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎