اراکین اسمبلی کو مجھ پر اعتماد نہیں تو حکومت چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا، کسی کونہیں چھوڑوں گا، قوم کو باہر نکالوں گا،وزیراعظم کا اعتماد کے ووٹ بارے بھی اہم اعلان

  جمعرات‬‮ 4 مارچ‬‮ 2021  |  20:29

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ارکان نے اعتماد کا اظہار نہ کیا تو اپوزیشن میں چلا جائوں گا،اگر اقتدار میں نہ ہوں مجھے کوئی فکر نہیں ،جب تک پیسہ واپس نہیں کرینگے ،کسی کونہیں چھوڑونگا ، قوم کو باہر نکالونگا ،ملک عظیم تببنے گا جب سارے ڈاکو جیلوں میں ہونگے ،الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا؟،سینیٹ انتخابات میں 30،


40 سال سے پیسہ چل رہا ہے، اب سارا ڈرامہ عبدالحفیظ شیخ کی نشست کیلئے کیا گیا؟،نہ بلیک میل ہونگا اور نہ ہی این آراو دونگا ۔ جمعرات کو سینٹ کے الیکشن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چھ سال پہلے تحریک انصاف نے سینٹ انتخابات میں حصہ لیا ، خیبر پختون خوا میں میری حکومت تھی ،تب اندازہ ہوا سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے ،یہ تیس چال سال سے پیسہ چلتا آرہا ہے ، جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ پیسہ استعمال کرتا ہے وہ ممبران پارلیمنٹ کو خریدتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے حیرت ہوئی ہے کہ یہ جمہوریت کے ساتھ کیسا مذاق ہورہا ہے ، سینٹ کے اندر ملک کی لیڈر شپ آتی ہے اوران میں سے پاکستان سے لیڈر شپ آتی ہے ان میں سے وزیر ، وزیر اعظم بنتے ہیں ، مجھے تب سے حیرت ہوئی کہ ایک سینیٹر رشوت دیکر سینیٹر بن رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جو ضمیر بیچ رہے ہیں یہ کونسی جمہوریت ہے ؟ اس کے بعد میںنے تب سے مہم چلائی اور کہاکہ سینٹ انتخاباتاوپن بیلٹ ہونی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ 2018ء میں بیس ممبران پارلیمنٹ بک گئے تھے اور ہم نے بیس ممبران کو نکالا اور پھر دیکھا یہ دومین پارٹیز نے میثاق جمہوریت میں دستخط کئے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے کیونکہ سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور بعد میں بیانات بھی آئے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اوپن بیلٹ کیلئے بل پیش کیا تویہ تمام جماعتیں خفیہ بیلٹ پر اکٹھی ہوئیںاور خفیہ بیلٹ کی حمایت کی اور پھر سپریم کورٹ گئے اور اس کے بعد ویڈیو نکل آئی جو 2018ء میں ایم پی ایز پیسہ لے رہے ہیں اور جب عدالت میں بات چیت چل رہی ہے تو الیکشن کمیشن نے اوپل بیلٹ کیخلاف بیان دیا اور سپریم کورٹ کہتا رہا ہے کہ آپ کی ذمہ داری ہے شفاف الیکشن کریں اورپھر پی ڈی ایم میں سب اکٹھے ہوگئے اور ماضی میں خود کہتے رہے اوپن بیلٹ ہو نے چاہئیں اوراب ساروں نے زور لگایاکہ خفیہ بیلٹ ہونی چاہیے ،یہ جمہوریت کے خلاف ہے ،آئین کے خلاف ہے کیا پہلے آئین کے خلاف نہیں تھی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف آگیاکہ چونکہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں، میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا، انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوںنے کہاکہ یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے یہ ان کے دور میں بنائے ہوئے ،ہمارے دور میں پانچ فیصد کیسز نہیںہونگے تب سے سب اکٹھے ہوگئے اور میرے اوپر اتنا پریشر ڈالو اور ہاتھ کھڑے کر کے این آر او دے دو ۔ انہونے اپوزیشن کے حوالے سے کہاکہ پہلے کہا تھا الیکشن خراب ہے ، پھر کرونا کے اوپر پوری کوشش کی اور پھر فیٹف کا بل آیا ، ان کے دور میں ایک انٹر نیشنل ادارے میں پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور ہمیں کہا اگر آپ وہنہیں کرتے تو بلیک لسٹ میں ڈال دیں گے ،اس کا مطلب ہے ہمارا روپیسہ گر نا شروع ہوجائیگا اور ہمارا روپیسہ کتنا گرتا ہے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے جب روپیہ گرتا ہے اور پھر مہنگائی بڑھ جاتی ہے جس میں تیل ، بجلی ،ڈالر ، گھی اور دالیں باہر سے آتی ہے اور گندم بھی باہر منگوانی پڑی ہے اور جو بھی چیز باہر سے آتی ہے توسب مہنگی ہو جاتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم فیٹف کیلئے قانون بنانا چاہتے تھے ان سب نے ملکر این آر او کا مسودہ دے یا اور کہا نیب کو خترم کر ے پھر فیٹف کی حمایت کرینگے ،نیب کا فیٹف سے کیا تعلق ہے ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کسی طرح بلیک میل کر کے این آر او دے دیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سب کہہ رہے تھے سینٹکے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور سب اکٹھے ہو گئے اور سپریم کورٹ میں زور زور سے کہا ہمیں خفیہ بیلٹ چاہیے اس کی وجہ یہ تھی اور انہوںنے پلان کیا ، یوسف رضا گیلانی اور شیخ حفیظ کے الیکشن میںپیسہ چلانا تھا اور پوری کوشش کر نا تھی ان کے ممبران توڑیں اور الیکشن جیتیں اور جب حفیظ شیخ نے جیتنا تھا اور کہنا ہےعمران خان کی اکثریت ختم ہو گئی ،ان کا مقصد تھا کہ اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوںلیکن میں اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔وزیر اعظم نے کہاکہ میری پچیس سال کی جدجہد ہے جس کے بعد میں نے سب کچھ تھا ، میں واحد آدمی ہوں جس کی سب سے زیادہ شہرت تھی ، پیسے میریزندگی کیلئے بہت تھے ، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی، میں سیاست میں کیوں آیا ؟ میں پہلا پاکستانی تھا جو آزاد پیدا ہورا اور ہمیں اپنے ملک پر فخر تھا ،اس وقت پاکستان کی مثال دی جاتی تھی ہمیں فخر ہوتا تھا ، پاکستان کا دینا میں ایک رتبہ تھا ، ہم اوپر جارہے تھے تو میں نے آہستہ آہستہ ملک کو نیچے آتے دیکھا انہوںنے کہاکہ پھرہماری تقدیر بدلی اور کرپشن بڑھنا شروع ہوئی اور سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا ہم دیکھ رہے تھے کہ آہستہ آہستہ ملک نیچے جارہا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ 1985 کے بعد ملک میں تباہی مچی اور کرپشن اوپر گئی، جب وزیر اعظم اور وزیر چوری کرتا ہے تو ملک کو مقروض کر دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قانون کی بالادستی کامطلب ہوتا ہے کہ غریب و امیر کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو، انصاف وہ ہوتا ہے جو طاقتور کو قانون کے نیچے لاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں نے اپنا وقت باہر گزارا ہے ،انگلینڈ میں سارے سسٹم دیکھے ہیں ، فرق کیا ہے ایک ملک اوپر چلا جاتا ہے اور دوسرا نیچے آجاتا ہے وہ انصاف ہے ، قانون کی بالادستی ہے ، نبی ؐ نے عد ل وانصافکی بنیاد رکھی تھی ، قانون کی بالادستی کا مطلب ہے کہ طاقت ور اور کمزوربرابر ہوں ۔انہوںنے کہاکہ نبی ؐ نے کہا میری بیٹی بھی جرم کرے تو اسے سزا ملے ، یعنی انصاف وہ ہوتا ہے جو طاقتور کو قانون کے نیچے لیکر آتا ہے یہاں طاقت ور کیلئے ایک قانون ہے ، منی لانڈرنگ کررہا ہے ، پلاٹوں پر قبضے کررہے ہیں ، ان کو کوئی نہیںپکڑ رہا اور غریبوں پکڑلیا جاتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پرویز مشرف دور میں میں نے چند دن جیل میں گزارے وہاں سارے غریب ہیں جب وزیر اعظم چوری کرتا ہے تو وہ ملک کو مقروض کر دیتا ہے ، سارے جیل میں چوروں کی چوریاں اکٹھی کر دیں تو دو تین ارب چوری بنے گی ،میں وزیر اعظم ایک پراجیکٹ میں اربوں روپے بنا لونگا،سو ارب روپے کا پراجیکٹ ہوا ہے تو کہتا ہوں 130ارب روپے کر دوں اور تیس ارب میرے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ،سارے چور بھی تیس ارب چوری نہیں کر تے ، کئی بیچارے مجبور ہوتے ہیں ، وزیر اعظم ایک ڈیل میں تیس ارب روپے بنا سکتا ہے اس کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں ، 130ارب کا پراجیکٹ بن جاتا ہے اس سے بجلی کیقیمت اوپر چلی جاتی ہے ،قوم مقروض ہو جاتی ہے ، غریب ممالک کی غربت کا سبب کیا ہے وہاں بھی وزیر اعظم اور وزیر ملک کا پیسہ چوری کرتے ہیں اور باہر بھجواتے ہیں ، چینی والا اور پاپڑ کے نام سے اس لئے باہر بھجواتے ہیں تاکہ پکڑے نہ جائیں ۔انہوںنے کہاکہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق ہر سال ایک ہزار روپے ڈالرغریب ممالک سے امیر ممالک میں جاتا ہے ،ہمارا سارا بجٹ 60ارب ہے تو ایک ہزار ارب غریب ممالک سے جاتے ہیں ،پاکستان سے دس ارب ڈالر منی لانڈرناگ ہو کر باہر جاتا ہے ، غریب ملک غریب ہو تے جاتے ہیں ، غریب ممالک کا پیسہ سکولوں اور عوام پر خرچ ہو نے والا پیسہ باہر چلا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر کرپشن کرکے ملک کو مقروض کر دیتے ہیں ، پھر قرضے دینے کیلئے ٹیکس لگانا پڑتے ہیں ، میری جدوجہد کا مقصد کیا تھا ،ہمارے ملک میں تماشا دیکھ لیں ۔انھوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان تمام لوگوں کو این آر او دیا، اب ان لوگوں کیلئے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے پاکستان جتنا ٹیکس جمع کرتا ہے، آدھا قرض کی ادائیگیمیں دے دیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر اپوزیشن کے حوالے سے کہاکہ انہوں نے سینٹ انتخابات میں کیوں اتنا زور لگایا ہے مجھے پتہ تھا پیسہ چلنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملیں جتنی ملنی تھیں، انہوں نے سارا ڈرامہ ایک عبدالحفیظ شیخ کی نشست کیلئے کیا، ہمارے اراکین نے بتایاکہ انہیں فون کرکے پیسوں کی پیشکش کی گئی اور 2 کروڑ سے بولی لگنا شروع ہوئی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا بہت بڑا کر دار ہے ، آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری شفاف الیکشن کمیشن کرانا ہے ، عدالت میں کیوں جا کر کہا خفیہ الیکشن ہونے چاہئیں ، کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے، پھر آپ نے قابل شناختبیلٹ پیپرز کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے، یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا، آج آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقارمجروح کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے، میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ریٹ لگ گئے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتہ یہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی، جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کرے گا، جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ کیاحاتم طائی ہے۔انہوںنے کہاکہ سارے ملک کے سامنے ویڈیو چل رہی ہیں اس سے پہلے ویڈیو چلی ایم پی ایز کروڑورں روپے بیگ میں ڈال رہے ہیں ، یہ آپ کی ذمہ داری تھی ،ساری ایجنسیز آپ کے نیچے ہیں ، جب لیڈرز شپ رشوت دیگی اور لے گی کیا پٹواری اور تھانیدار ٹھیک ہو جائیگا ، جب اوپر کرپشن کی اجازت دے رہے ہیںاور آپ کے سامنے ہوئی ہے ، آج جمہوریت اوپر گئی ہے یا نیچے گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کیا کبھی قانون بنا کر رشوت ختم ہو سکتی ہے ، جب قوم میسج دیتی ہے جو کرپشن کریگا اور رشوت دے گا وہ ہمارے میں سے نہیں ، لوگ ان کو پارٹیوں میں نہیں بلائیں گے مگر یہاں آپ کرپٹ لوگوں کو آگے لا رہے ہیں ؟۔ بڑے بڑے صحافی کہتےہیں عدالت میں نوازشریف کو تقریر کر نے کی اجازت دینی چاہیے ،ایک آدمی مجرم اور جھوٹ بول کر ملک سے بھاگا ہوا ہے اس کے بیٹے اربوں لیکر بھاگے ہوئے تھے ، کدھر سے ان کے پاس آیا ، ان کا داماد منشی باہر بیٹھا ہوا ہے ،ہمارے صحافی کہہ رہے ہیں اسے تقریر کر نے کا موقع دیا جائے اور کوئی جیل سے نکلتا ہے تو لوگ پھولپھینک رہے ہیں جب یوسف رضا گیلانی پیسے چلا کر سینیٹر بنے ،ہم کیامثال بن رہے ہیں ۔ انہوںنے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ یہ آپ کے اوپر ہے ،کیا آپ ملک کو اوپر لے جاناچاہتے ہیں یا چوروں کے ساتھ کمپرومائز کر نا چاہتے ہیں ، انہوںنے آپ کا پیسہ چوری کیا ہوا ہے میرا پیسہ تو باہر نہیں گیا ؟ ہر چیز کے اوپر پیسہبناتے ہیں ، ایک لاکھ روپے میں سڑک بننے والی ڈیڑھ کروڑ میں بناتے ہیں ،جس کے وزیر اعظم اور وزیر چوری کر رہے ہوں کیا وہ ملک ترقی کرتا ہے ، چوروں کو جیلوں میں سہولیات دی جاتی ہیں ،یہ ڈرامہ آپ کے سامنا ہے ، ساری قوم نے دیکھا پیسہ دیکر ایک بندہ جیت گیا ۔ انہوں نے ایک بار پھر یوسف رضا گیلانی پر تنقید کرتے ہوئےکہاکہ سپریم کورٹ کہہ رہا ہے لیٹر لکھیں اورسوئٹرز لینڈ سے پیسہ واپس لیں ، گیلانی نے لیٹر نہیں لکھا کیونکہ وہ آصف زر داری کا وفادار ہے ،اس پر وہ نا اہل بھی ہوا ہے اورآج سینیٹر بن گیا ہے ،ان کاخیال تھا عدم اعتماد کی تلوار لٹکائیں گے ، ان کیلئے کرسی بڑی عزیز ہے اور این آز او دے دو گا ، میں ہفتہ کو عدم اعتماد کا ووٹ لے رہاہوں اور سب کے سامنے پوچھوں گا کہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں اگر میں اہل نہیں ہوں اور مجھ پر اعتماد ظاہر نہیں کیا جاتا تو میں اپوزیشن میں چلا جائوں گا۔ انہوںنے کہاکہ خفیہ ووٹ دیکر اپنی آخرت خراب کرتے ہیں ، اگر کرسی جاتی ہے تو مجھے کیا فکر ہے ؟کیا میں نے فیکٹریاں بنائیں ، رشتہ اروں کو عہدے دیئے ، مے فیئر میںبڑے بڑے گھر لے لئے ،میںتو اپنے گھر میں رہتا ہوں ، انہوںنے کہاکہ اگر میں باہر جاتا ہوں تو ٹریول اور سکیورٹی کے علاوہ سارے خرچے اپنے بر داشت کر تاہوں ، جب باہر جاتا ہوں تو دس دس گنا پیسہ کم خرچ کیا ہے ،مجھے خوف وخدا ہے ،ملک میں بھوک ہے اور ملک کا پیسہ بچاتا ہوں ، اگر اقتدار میں نہ ہوں مجھے کوئی فکر نہیںپڑیگی مگر میں کسی کونہیں چھوڑونگا جب تک پیسہ واپس نہیں کرینگے ،میں لوگوں کو نکالوں گا ،قوم اپنا پیسہ بچانے کیلئے نکلے گی چور کا پیسہ بچانے کیلئے قوم نہیں نکلتی ،میں عوام نکال دکھائونگا جب تک زندہ ہوں ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتا رہونگا ۔ انہوںنے کہاکہ پیسہ لوٹنے والے ملک کے غدار ہیں ، مقابلہ کرتا رہوگا ، میرا ایمان ہے اللہ ملک کو اچھا وقت دکھانے والا ہے ، یہ ملک عظیم ملک بنے گا عظیم تب بنے گا جب سارے ڈاکو جیلوں میں ہونگے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎