صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومتی ردعمل بھی آگیا، بڑا دعویٰ کردیا

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  10:34

اسلام آباد(این این آئی)اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے قابل شناخت سینیٹ بیلٹ پیپرکا کہہ دیاہے، ہم جوچاہتے تھے وہ مل گیا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سینیٹ الیکشن صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی مہربانی ہے جوچاہتے تھے وہ مل گیا، سپریم کورٹ نےقابل شناخت سینیٹ پیپرکا کہہ دیاہے، اب یہ الیکشن کمیشن پرہے کہ وہ بیلٹ پیپر پر بار کوڈلگائے یا سیریل نمبر۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ سپریم کورٹ کی یہ رائے بہت اہم ہے کہ


بیلٹ پیپرکی سیکریسی حتمی نہیں ہے، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہاانتخابات صاف شفاف ہونے چاہئیں، حکومت کی جانب سے اوپن بیلٹ سے متعلق لایا گیا آرڈینس ختم ہوچکا، اب الیکشن شفاف بنانے کیلئے الیکشن کمیشن نے اقدامات کرنے ہیں۔اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 سپریم کورٹ کی رائے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ سینیٹ انتخابات کے لیے عدالت نے واضح طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کا کہا ہے، ابھی بیلٹ پیپر چھپے نہیں ہیں، الیکشن کمیشن بیلٹ پیپر کو شناخت بنا سکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے کے بعد سینیٹ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 اب ختم ہو چکا ہے کیونکہ آرڈیننس عدالتی رائے سے مشروط تھا۔دریں اثنا وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات سے متعلقریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی، خوش آئند اور زبردست قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ 'الیکشن کمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شفافیت یقینی بنائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہتاریخی ہے جس میں بظاہر یہی لگتا ہے کہ انتخابات آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہوں گے لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ہر اقدام اٹھائے اور ووٹ کی رازداری حتمی نہیں ہے۔سینیٹ انتخاباتسے متعلق ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سامنے آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ بیلٹ پیپر میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے چاہے بار کوڈ کے ذریعے ہوں یا سیریل نمبر کے ساتھ ہو اس بات کو یقینی بنائیں کہ سپریم کورٹ کی رائے کی روشنیمیں ووٹ کی رازداری دائمی نہ ہو، وقت کے تقاضے اور ہیں اور زمینی حقائق اور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب اتنے بڑے ادارے کے اراکین کے انتخابات میں شفافیت پر سوال اٹھیں گے تو ان کی اخلاقی حیثیت کمپرومائز ہوتی ہے اور جو پیسے کے زور پر آتے ہیں وہ اپنے، گروہی اورکاروباری مفادات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کے ذاتی مفاد ان کے آڑے آتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک اور عوام کی بہتری کے لیے فیصلے نہیں ہو پاتے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ہمارا ملک تمام تر وسائل ہونے کے باوجود اخلاقیاور معاشی طور پر وہ ترقی نہیں کرسکا جس کا وہ حقدار ہے اور اس کا آغاز پارلیمان سے ہوتا ہے، اسی وجہ سے ہم سپریم کورٹ گئے اور آئین کی دفعہ 226 کی وضاحت چاہی، پارلیمان میں بل پیش کیا اور صدارتی ریفرنس جاری کیا۔انہوں نے کہاکہ اس سب کا بنیادی مقصد یہ تھا کہعملی طور پر کیا اقدامات جائیں اور آئین کی تشریح کا واحد پلیٹ فارم یعنی سپریم کورٹ اس میں ہماری رہنمائی کرے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جو آئین کی تشریح مانگی تھی وہ بہت اچھا فیصلہ تھا، ہماری پارٹی اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کا یہ ایک اہم سنگ میل ہے کیوںکہ ہم شفافیت اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کا نطریہ لے کر نکلے تھے اور یہ وہ عملی اقدامات ہیں جو اس سلسلے میں ہماری حکومت نے اٹھائے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہ ہم مسلسل 2 نظریوں کی جنگ لڑرہے ہیں، ایک نظریہ یہ کہ ملک اسی طرح چلے جیسے چلتا آرہا ہے جس کیسربراہی اپوزیشن کررہی ہے جس نے ہمیشہ ضمیر خریدنے کی سیاست کی ہے وہ تاریخ کے بائیں جانب کھڑے تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تاریخ کے دائیں جانب کھڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہر منتخب نمائندہ وہ پیسے کے بجائے اہلیت کی بنیاد پرپارلیمان میں آئے اور ان کے ذاتی مفادات راہ میں رکاوٹ نہ بنیں اور وہ عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پرانا پاکستان،جس میں پیسے کا زور ہوں، میرٹ اور شفافیت کا قتل عام ہو اور ایک جانب تحریک انصاف ہے جو چاہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات شفاف طریقے سے ہو، جمہوریت کا حقیقی مقصد یہی ہے کہ عوم کے نمائندے عوام کی خدمت کریں اور عوام کے مفاد کے لیے کام کریں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎