لگتا ہے آپ سب سوئے ہوئے ہیں ۔۔۔ 6ہزار ارب کے ذکر پر تالیوں کی آواز نہ آئی وزیر اعظم کے شکوے پر شرکا بھرپور انداز میںتالیاں بجانے لگے

  ہفتہ‬‮ 27 فروری‬‮ 2021  |  14:56

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کا سنگ بنیا د رکھا اور تقریب سے بھی خطاب کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کے دوران شرکا کو منصوبے کی اہمیت کے حوالے سے آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے زور دے کر بتایا کہ اس منصوبے سے پہلے فیز میں 1300ارب روپےکے وسائل پیدا ہوں گے جبکہ منصوبے کی مجموعی طورپر 6 ہزار ارب روپے کی کمرشل ویلیو ہے ۔ اس پر شرکا کی جانب سے کوئی رد عمل نہ آنے پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ


لگتا ہے آپ سوئے ہوئے ہیں ، 6 ہزار ارب روپے کے ذکر پر بھی تالیاں نہیں بجائی گئیں ، جس پر شرکا نے بھرپور تالیاں بجائیں اور پنڈال میں قہقہے بھی بلند ہوئے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہاکہ پچھلے 10 سال کے دوران لئے گئے قرضوں سے ملک ڈوب کر رہ گیا ملک میں تبدیلی لانے کے لئے بحیثیت قوم ہمیں پرانی سوچ کو بدلنا ہوگاجب ملک پر مشکل وقت آتا ہے تو اس مشکل وقت سے نکلنے کے لئے پرانی اور گھسی پٹی روایات کو تبدیل کرنا پڑتا ہے اس وقت ملک کو جن 2 بڑی مشکلات کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ قرضوں کا بوجھ ہے پچھلے 10 سال کے دوران اندھیر نگری میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے قرضے لئے گئے جس کی وجہ سے آج ہمیں مہنگائی اور بیروز گاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،ہر سالقرضوں کی قسطوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ وراثت میں ملے مسائل کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو اہے ،جب ہم نے حکومت سنبھالی تو اس وقت قرضوں کے باعث ملکی صورتحال بہت خراب تھی ہم نے بہتر منصوبہ بندی سے معاملات کو سنبھالا اور آج حالاتکافی بہتر ہیں ،پچھلے 6 ماہ میں ہمارا کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں ہے جو خوش آئند ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اوردرآمدات و برآمدات کے درمیان توازن نہ ہونے کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوگئی جس کی وجہ سے ہمیںمزید قرضے لینے پڑے ان مسائل سے نکلنے کے لئے ہمیں اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے اور آمدنی میں اضافہ کرنا ہو گا اس لئے ہم نے یہ منصو بے شروع کئے ہیں تاکہ ملک میں سرمایہ کاری لا سکیںراوی ریور اور والٹن منصوبے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں ریونیو پیداکریں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان منصوبوں سے درخت ختم ہوجائیں جائیں گے یہ ایک غلط سوچ ہے میں اپنے آپ کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑاانوائرمنٹلسٹ سمجھتا ہوں کسی نے آج تک پاکستان میں درخت لگانے کے متعلق نہیں سوچا تھابدقسمتی سے پاکستانمیں چھانگا مانگاچیچہ وطنی دیپالپور کندیا ں کے بڑے بڑے جنگلات ختم کر دیئے گئیزمینوں پر قبضے کر لئے گئیہم نے خیبر پختونخواہ میں ایک ارب درخت لگائے جو بین الاقوامی ریکارڈ ہیمنصوبے کی تکمیل میں کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گااگر کہیں سے درخت کو ہٹانا پڑا تو جدیدٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے درختوں کو کہیں اور منتقل کر دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پھیلتے لاہور کا حل صرف اور صرف بلند عمارتوں کی تعمیر ہیبدقسمتی سے ہم نے پلاننگ ہی نہیں کی کہ کس طرح اپنے شہروں کو ماڈرن سٹی بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ جدیدممالک میں ایئر پورٹس عموما شہر سے باہر ہو تے ہیںہم نے اس حوالے سے حکمت عملی طے کر لی ہے اور بہت جلد اس ایئر پورٹ کو کسی اور جگہ پر شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں،جب بھی پاکستان میں کوئی تعمیراتی منصوبہ بنتا ہےتو اوورسیز پاکستانی اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں،امید ہے اس منصوبہ میں بیرون ملک سے پیسہ آئے گا۔وزیر اعظم نے کہاکہ نیاپاکستان ہائوسنگ منصوبہ کے تحت پہلی بار پی ٹی آئی حکومت نے تنخواہ دارمزدور طبقے کے لئے اپنا گھر بنانے کا خواب پورا کیا ہے ،ہم نے مالیاتی اداروں کو اس منصوبہ میں شامل کر کے لوگوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے،تنخواہ دار طبقہ ذاتی گھر کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا، ان کو آسان شرائط پر قرض دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎