جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف اور اسحاق ڈار نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لے لی سابق وزیر اعظم کے قریبی ساتھی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرتجزیہ کار پی جے میر نے نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ رول آف لا ایک چیز ہوتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ جب عزیر بلوچ جیسے ملزم کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو آپ اس ملک سے انصاف کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں بالکل انصاف کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ

لوگ عدلیہ کے بارے میں کیا کیا باتیں کر رہے ہیں ہمیں سن کر شرم آتی ہے۔جہاں تک سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی بات ہے تو وہ علاج کی غرض سے باہر گئے تھے لیکن اب وہ نہیں آرہے ، وہ وہیں پر ہیں۔ بات یہ ہے کہ نواز شریف کا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کی صورت میں لندن میں موجود سفارتخانہ ایک ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹ جاری کرتا ہے جس پر وہ سفر کر سکتے ہیں، پی جے میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ ذرائع سے خبر ملی ہے کہ نواز شریف نے سیاسی پناہ لے لی ہے ۔میں جانتا ہوں کہ یہ بہت بڑی خبر ہے ، لیکن میں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف کے ایک بہت قریبی ساتھی نے مجھے بتایا کہ آپ نواز شریف کی واپسی کی کیا باتیں کرتے ہیں انہوں نے تو سیاسی پناہ لے لی ہوئی ہے بلکہ اسحاق ڈار نے بھی لندن میں سیاسی پناہ لے لی ہے ۔ پی جے میر کا کہنا تھا کہ اگر وہ واپس آنا چاہیں تو ٹریول ڈاکیومنٹ پر وہ سفر تو کر سکتے ہیں لیکن اب و ہ یو این کو درخواست دیں گے جس کے

بعد انہیں ایک ایمرجنسی انٹرنیشنل پاسپورٹ ملے گا جو کہ صرف چند ممالک میں سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔جس کی پاکستان کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی جائے گی۔ پی جے میر نے کہا کہ یہ ایک ڈیویلپنگ اسٹوری ہے اور اب یہ حکومت کو چاہئے کہ وہ لندن کی حکومت سے رابطہ کریں اور ان سے پوچھیں۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف او ر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں ، حکومت ان دونوں کی واپسی کی بھرپور کوشش کر رہی ہے لیکن تاحال کامیابی نہیں مل سکی ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…