جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن جیتنے کیلئے پراعتماد حکمت عملی پرپراسرار خاموشی نے حکومت کی بے چینی بڑھا دی

datetime 16  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ڈی ایم اس بارے میں حددرجہ پر اعتماد ہے کہ وہ تین مارچ کو ایوان بالا کے انتخابات میں فتح سے ہمکنار ہوگی گوکہ اس اعتماد کے محرکات اور یقین کو اپنی حکمت عملی کے تحت منظر عام پر نہ لانے کا جواز پیش کرتے ہوئے انتظار کرو اور دیکھوکے جواب پر اکتفا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہ وہ وقت آنے پر ہی اس

حوالے سے مزید گفتگو کرسکتے ہیں۔روزنامہ جنگ میں فاروق اقدس کی شائع خبر کے مطابق اپوزیشن کے ایک معتبر ذریعے نے محتاط لفظوں میں گفتگو کرتے ہوئے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد کہ کہیں بھی ان کا حوالہ اشارتاً بھی نہیں دیا جائے گا بتایا کہ پی ڈی ایم آج بھی یہ ثابت کرسکتی ہے کہ ہم سینٹ کا الیکشن ہرصورت جیتنے کی عددی اکثریت رکھتے ہیں۔ تاہم جب ان سے یہ استفسار کیا گیا کہ اگر آپ کا یہ دعویٰ درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر اگست 2019 میں جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تھی اور ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ان پر عدم اعتماد کا اظہارکیا تھا لیکن نظر آنے والی عددی اکثریت کے باوجود نتائج کے اعتبار سے حکومت جیت گئی تھی لیکن اس تلخ تجربے کے باوجود نہ صرف پی ڈی ایم سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لے رہی ہے بلکہ جیت کے بارے میں اتنی پر اعتماد کیوں ہے جب کہ حالات اور کردار بھی تبدیل نہیں ہوئے ،وہی ہیں جن میں

انہیں شکست ہوئی تھی۔ جس پر مذکورہ شخصیت کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل درست ہے لیکن جو ترجمان اعلانیہ طور پر ٹی وی پر آ کر بیان دیتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ہم ان کے اس بیان پر یقین اور اعتماد کرتے ہوئے انھیں آزما رہے

ہیں اورسینٹ کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور اگر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا تو اس کے پس منظر میں بھی ترجمان کا دعویٰ اور یقین دہانی ہی ہوگی بصورت دیگر ہمارے پاس لانگ مارچ کا آپشن تو موجود ہے لیکن ہم ترجمان کی جانب سے غیرجانبداری کی یقین دہانی کو ایک مرتبہ ضرور آزمائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…