منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے فیصلے پر اعتراض اٹھا دیے

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کے نام لکھے خط میں چیف جسٹس گلزار احمد کے تحریر کردہ فیصلے پر اعتراضات اٹھادیئے۔آن لائن کو دستیاب خط کی کاپی میں جسٹس قاضی فائز نے لکھا ہے کہ ان کو معلوم ہوا ہے کہ 11 فروری کو سپریم کورٹ نے ایک ایسے مقدمے

میں فیصلہ میڈیا کو جاری کیا گیا جس کا وہ حصہ تھے تاہم ان تک یہ حکم نامہ نہیں پہنچایا گیا جبکہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ بینچ کے سربراہ کے بعد سینئر جج سے آرڈر شیئر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسی ترتیب سے بینچ کے دیگر جج صاحبان سے بھی فیصلہ شیئر کیا جاتا ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سے تو عدالتی حکم نامہ شیئر کیا گیا مگر مجھ سے نہیں اور ان کو تاحال یہ حکم نامہ نہیں مل سکا۔ چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی فائز کے علاوہ دو دیگر ججز بھی اس بینچ کا حصہ تھے۔یاد رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے جمعرات کو جاری کئے گئے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز کو وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات کی سماعت سے روک دیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روزسپریم کورٹ نے وزیر اعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے تحریر کیا۔فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف کیس کررکھا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ غیر جانب داری کا تقاضا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس فائزعیسیٰ نے واٹس ایپ

پر ملیں دستاویز کی کاپیاں ججز اور اٹارنی جنرل کو دیں، جسٹس فائزعیسیٰ کے بقول یہ دستاویزات انہیں نامعوم ذرائع سے واٹس ایپ پرملیں۔سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا دستاویزات اصل ہیں یا نہیں، یقین سے نہیں کہہ سکتا جب کہ اٹارنی جنرل نے کہا دستاویزات کیمصدقہ ہونے پر سوالیہ نشان ہیں۔فیصلے میں کہا گیا

ہے کہ ان دستاویزات کوعدالتی رکارڈ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اٹارنی جنرل نے کہا جج شکایت کنندہ ہیں اور مناسب نہیں کہ خود معاملہ سنیں۔ تحریری فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا ان حالات میں فاضل جج کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ معاملہ سنیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ترقیاتی فنڈز کیس میں وزیراعظم کے جواب کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…