ن لیگ نے وزیراعظم عمران خان سے 12 سوالات کے جواب مانگ لئے

  جمعہ‬‮ 5 فروری‬‮ 2021  |  18:14

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی کشمیر فروشی،نااہلی پر چپ نہیں رہ سکتا، پی ٹی آئی حکومت کشمیر پر یا تو بہت بڑی ناکامی،مجرمانہ نااہلی کی ذمہ دار ہے یا پھر اس نے کشمیر فروشی کی،72سال میں بھارت مقبوضہ کشمیر کو ضم نہ کرسکا، اسےہمت عمران خان کے پاکستان کو داخلی، معاشی و سفارتی سطح پر کمزور کرنے کی وجہ سے ہوئی۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان سے 12سوالات کے جواب مانگتے ہوئے کہا ہے


کہ مودی کے اپنے منشور میں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے واضح اعلان کے باوجود عمران خان نے مودی کی انتخابات میں کامیابی کیلئے ٹویٹ کیوں کیا تھا؟۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے صدر کی جانب سے 27مئی 2019کو اس اعلان کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا جائے گا، عمران خان نے کیا عملی اقدامات کئے؟۔ انہوں نے سوال کیا کہ دنیا کی سب سے زیادہ قابض فوج کی موجودگی والے علاقے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے 1لاکھ 80ہزار اضافی فوج بھجوانے پر عمران خان نے کیا کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے جولائی 2019کو بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لئے مقبوضہ خطے کے دورے کا نوٹس لینے میں عمران خان حکومت کیوں ناکام رہی اور اس معاملے میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر کیوں خاموش بیٹھی رہی؟۔احسن اقبال نے کہا کہ بتایا جائے کہ جولائی 2019میں جب قابض بھارت نے مقبوضہجموں و کشمیر سے سیاحوں کو نکالنا شروع کیا تو عمران خان حکومت نے کیا کیا؟ یہ بھارتی اقدام اس امر کا واضح عکاس تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی کے عزائم کے بارے میں کیا بتایا؟ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں یا توسرے سے کوئی بات ہی نہیں کی یا پھر ایک کمزور کیس پیش کیا یا پھر کسی ڈیل کا حصہ بن گئے؟۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ نے فعال، موثر اور عملی خارجہ پالیسی کی راہ کیوں اختیار نہیں کی؟، کیوں عمران خان نے اس معاملے پر حمایت حاصل کرنے کےلئے کسی ایک بھی دوست ملک کا دورہ نہیں کیا؟ جبکہ بھارتی وزیراعظم مسلسل متحرک دکھائی دیئے اور عالمی برادری کی حمایت کے لئے کئی ممالک کے دورے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اہم اور دوست ممالک جانے اور قومی مفاد پر حمایت حاصل کرنے کے بجائے ہمارے وزیر خارجہ اپنے شہر میں مریدین کے ہمراہ میڈیا پر خطاب میںمصروف رہے؟ انہیں کشمیر کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سلامتی کونسل اور او آئی سی کے تمام رکن ممالک کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں ہوا؟۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ عمران خان حکومت نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انفارمیشن بلیک آٹ اور کرفیو ختم کرانے کیلئے دنیا کے اہم دارلحکومتوںبالخصوص سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں پاکستان کے خصوصی ایلچی کیوں نہیں بھیجے؟۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ قومی اسمبلی کی قرارداد کے باوجود جموں کشمیر پر او آئی سی کا خصوصی سربراہی اجلاس بلانے کی درخواست اور اس ضمن میں لابی کیوں نہیں کی گئی؟۔انہوں نے کہا کہ بتایاجائے کہ 2019ء میں کشمیر پرپارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد منظور ہونے کے 24گھنٹے کے اندر ہی حکومت نے مریم نواز شریف کو گرفتار کر کے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا کیوں ضروری سمجھا؟،جب وہ کشمیریوں سے یک جہتی کے لئے مظفرآباد جا رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ پی ٹی آئی حکومت نے یومِ یکجہتی کشمیر کے دن کشمیر پر پارلیمان کے اتحادکا پیغام دینے کے بجائے متنازعہ قا نو ن سا ز ی لا کر قومی اسمبلی میں کیوں طوفان بدتمیزی مچایا اور لڑائی سے ماحول خراب کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی کشمیر فروشی اور اس نااہلی پر چپ نہیں رہ سکتا، یہ ہمارے ضمیر، کشمیریوں اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے، ہمیں اس پر لازما بولنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹی آئی حکومت کشمیر پر یا تو بہت بڑی ناکامی اور مجرمانہ نااہلی کی ذمہ دار ہے یا پھر اس نے کشمیر فروشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان کو داخلی، معاشی اور سفارتی سطح پر اتنا کمزور کر دیا ہے کہ مودی حکومت کو مقبوضہ جموں کشمیر کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کی ہمت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 72سال میں بھارت کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎