ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

” یہ قیامت تک الٹے بھی لٹک جائیں،میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے”

datetime 20  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)احتساب عدالت نے شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت25جنوری تک ملتوی کردی جبکہ عدالت نے شہباز فیملی کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر ریمارکس دئیے کہ مجھ سے بے شک 25سال کی تاریخ لے لیکن بھار آپ پر ہی پڑے گا۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے ریفرنس پر سماعت کی ۔ جیل حکام نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا اور روسٹرم پر حاضری لگوائی گئی۔شہباز فیملی کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ طبیعت کی ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔دوران سماعت جج جواد الحسن نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ میاں صاحب آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اس پر شہباز شریف نے کہا کہ ابھی تک میرا میڈیکل بورڈ نہیں بن سکا جس پر جج جواد الحسن نے کہا کہ آپ کی درخواست پر فیصلہ کردوں گا۔دورانِ سماعت شہباز شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر لاہور میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی پر کسی ادارے نے میری باتوں کی تردید نہیں کی، یہ منی لانڈرنگ کیس میں قیامت تک میرے خلاف دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے، یہ الٹے بھی ہوجائیں تو بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے۔میرے خلاف لندن سے خبر چھپوائی گئی اور جس نے خبر

چھپوائی ہے اس کا نام نہیں لوں گا، ڈیلی میل نے جب خبر شائع کی تو برطانوی حکومت نے اتوار کوآفس کھول کر تحقیقات کیں۔برطانیہ میں اتوار کی چھٹی بہت اہم ہوتی ہے مگر اس دن دفاتر کھولے گئے اور تحقیقات کی گئیں لیکن میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ڈیلی میل میں خبر شائع

کرکے پاکستان کو بدنام کیا گیا۔پنجاب میں برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر 5 ارب روپے کے مختلف پروگرام شروع کیے، نیب کو کرپشن نہیں ملے گی ہر منصوبے میں پیسے کی بچت ملے گی۔بعد ازاں عدالت نے نیب کے 2 گواہوں کے بیانات پر وکلا ء کو جرح کے لیے طلب کرتے

ہوئے سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔میرے خلاف لندن سے خبر چھپائی گئی، جس نے خبر چھپوائی اس کا نام نہیں لوں گا، پنجاب میں برطانیہ کی حکومت کے ساتھ ملکر 5 ارب روپے کے مختلف پروگرام شروع کیے۔قیادت سے اظہار یکجہتی کے لئے پارٹی رہنما اور کارکنان بھی احتساب عدالت پہنچے ۔ پولیس کی جانب سے احتساب عدالت آنے والے راستوں کو کنٹینرز،بیرئیر اور خاردار تاریں لگا کر بند رکھا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…