ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کا طیارہ توملائیشیا میں روک لیا گیا لیکن اس کے عملے کا کیا بنا؟بڑی خبرآگئی

datetime 16  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روزملائیشیا میں روکے گئے بوئنگ 777 طیارے پر تعینات پی آئی اے فضائی عملے کو وطن واپسی کی اجازت دے دی گئی۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق فضائی عملے کو وطن واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے، فضائی عملے میں دو پائلٹ

، 2 فرسٹ آفیسر اور 14 فضائی میزبان شامل تھے۔ملائیشیا کے قوانین کے تحت ملائیشیا میں رکنے والے فضائی عملے کو 14 دن کیلئے قرنطینہ میں رہنا ہوتا ہے، اگر پی آئی اے کے فضائی عملے کو روک لیا جاتا تو ان کیلئے بہت مشکل ہو جاتی کیونکہ اپ ڈائون فلائٹ کی وجہ سے عملے کے پاس سوائے یونیفارم کے کوئی اضافی کپڑے نہیں تھے۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے نے 2015 میں آئریش لیزنگ کمپنی ائیر کیپ سے دو بوئنگ 777 طیارے ڈرائی لیز پر لینے کا معاہدہ کیا، ائیر کیپ نے ویتنام کی فضائی کمپنی سے طیارے لیکر دیدئیے۔پی آئی اے نے اکتوبر 2020 میں لندن کی مصالحتی عدالت میں درخواست دائر کی کہ کورونا کی وجہ سے ایوی ایشن انڈسٹری شدید متاثر ہوئی، اس لیے لیز فیس میں کمی کی جائے، اس دوران پی آئی اے نے 6 ماہ سے لیز فیس کی ادائیگی روک رکھی تھی جو طیارہ روکے جانے کا سبب بنی۔ذرائع نے بتایا کہ لیزنگ کمپنی نے پی آئی اے کے دونوں طیاروں کی نقل وحرکت پر نظر

رکھی ہوئی تھی، ان میں سے ایک کے ملائیشیا شیڈول ہونے کی اطلاع ملتے ہی کمپنی نے بین الاقوامی قوانین کے تحت ملائیشین عدالت سے طیارہ قبضے میں لینے کا حکم حاصل کرلیا۔دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا موقف ہے کہ ایک کروڑ 40لاکھ ڈالر ادائیگی کا معاملہ لندن کی عدالت میں زیر سماعت ہے تاہم ملائیشین عدالت نے پی آئی اے کا موقف سنے بغیر یکطرفہ حکم دیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…