جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کو کس شرط پر باہر جانے دیا گیا تھا؟ حافظ حسین احمد کے حیران کن انکشافات

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد،کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )جمعیت علما اسلام(ف)سے نکالے گئے حافظ حسین احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اس شرط پر بیرون ملک جانے دیا گیا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں گے۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز

کے مطابق حافظ حسین احمد نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے سے پہلے بیماری کا پورا ڈرامہ تیار کیا گیا جس کے بعد چند قوتوں نے انہیں اس شرط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی کہ وہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں گے۔جے یو آئی کے 2019 کے آزادی مارچ کو دو اپوزیشن جماعتوں نے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا ۔ اس وقت پی ڈی ایم کو ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے سانحہ مچھ پر مگر مچھ کے آنسو بہائے۔انہوں نے کہا کہ اب جمہوریت نوازی کی بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، انہوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ حرف بحرف پورے ہوچکے ہیں، پی ڈی ایم نے استعفوں کے معاملے پر یوٹرن لیا اور ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے نوازشریف کے مفادات کیلئے سینئر ارکان کو پارٹی سے نکالا۔اپنے ایک علیحدہ ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جے یو آئی میں کانٹ چھانٹ کاسلسلہ

شروع کردیا ہے، کانٹ چھانٹ کا پہلا نشانہ مولانا فضل الرحمن بن چکے ہیں اور بنتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف صرف ایک کام جانتے ہیں پیسا پھینک، تماشہ دیکھ نوازشریف کی ملی بھگت سے محمد علی درانی شہباز شریف اور فضل الرحمن کو ملے، نوازشریف نے

زرداری کوکنٹرول کرنے کے لئے مولانا کو پی ڈی ایم کاسربراہ بنوایا۔حافظ حسین احمد نے کہا کہ آصف علی زرداری سب پر بھاری نکلے، ضیا الحق کی برسی سے شروع ہونے والی ن لیگ کی سیاست کو زرداری نے بے نظیر بھٹو کی برسی پر دفن کردیا۔انہوں نے کہا کہ زرداری نے

اپنا ویٹو کاحق بھی پی ڈی ایم سے منوالیا، سینٹ کا الیکٹرول کالج توڑنے، لانگ مارچ، 20 ستمبر کے تمام فیصلوں کو زرداری اور بلاول نے ویٹو کردیا۔حافظ حسین احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم نے اپنے فیصلوں پر پانی پھیر کر پیپلز پارٹی کے فیصلوں کو تسلیم کرلیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…