اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے فروری کیلئے ڈیزل کی دگنی قیمت پر ایل این جی کی بولیاں حاصل کرلیں، صرف 2 شپمنٹس پر کتنی اضافی ادائیگی کرنا ہوگی؟پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت کا انکشاف

datetime 29  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے فروری،2021 کیلئے ڈیزل کی دگنی قیمت پر ایل این جی بولیاں حاصل کرلی ہیں۔ سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ صرف 2 شپمنٹس کی اضافی ادائیگی 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی جانب سے

فروری کے لیے کیے گئے 7 کارگوز کے کانٹریکٹ 5.8 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو ہوتے، جب کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو کم ترین بولیاں حاصل کی ہیں وہ 9.96 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔روزنامہ جنگ میں خالد مصطفی کی شائع خبرکے مطابق، فروری 2021 کے حوالے سے پاکستان نے ایل این جی کم ترین بولیاں حاصل کرلی ہیں۔ یہ بولیاں دو ایل این جی کارگوز کے حوالے سے ہیں جو کہ ڈیزل کی قیمتوں سے بھی زائد پر حاصل کی گئی ہیں۔ پی ایل ایل نے جو کم ترین بولی حاصل کی ہے وہ برینٹ کی 21 سے 23.4 فیصد ہے، جو کہ 10.5 ڈالرز سے 11.7 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے۔ آزاد صنعتی ذرائع نے  حکومت اگر بروقت اسپاٹ کارگوز کے لیے بولیوں کے عمل کا انتظام کرلیتی جو کہ اگست سے ستمبر، 2020 کے درمیان ہوتا تو اس کی قیمتیں بہتر ہوتیں۔ جب کہ ن لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل نے اس حوالے سے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کم ترین موصول ہونے والی بولی بھی جو کہ فروری،

2020 سے متعلق ہے وہ بھی ن لیگ دور حکومت میں حاصل کی گئی طویل مدتی قیمت سے دگنی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف دو شپمنٹس کے لیے جو ادائیگی کی جائے گی وہ ن لیگ کے دور حکومت کے مقابلے میں 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی حکومت

کا کم ایل این جی درآمد کرکے جو کمی پیدا ہوئی اس کے اخراجات بھی زیادہ ہیں۔ 15 سے 16 فروری کے لیے کم ترین بولی ایل این جی ٹریڈنگ کمپنی سوکار نے دی ہے جو کہ 10.5 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ جب کہ 23 اور 24 فروری کے لیے کم ترین بولی دینے والی کمپنی اینوک ہے

جس نے 11.70 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو بولی دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی گورگان کمپنی نے اپنے آپریشنز معطل کردیئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ٹریڈنگ کمپنیاں مناسب قیمتوں پر اپنی بولیاں جمع نہیں کرپارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…