اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

قرضے لینے پر کیوں مجبور ہوئے؟حکومت نے وجوہات بتا دیں ، حقائق قوم کے سامنے رکھ دئیے

datetime 15  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (اے پی پی)وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں کی جانب سے لئے جانیوالے قرضوں پرسودکی ادائیگی نے موجودہ حکومت کو قرضہ لینے پرمجبورکیا، سابق قرضوں پرسود کی مد میں57کھرب روپے کی اداکئے،حقیقی قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا۔

حکومت نے جاری مالی سال میں سرکاری قرضوں پر نگرانی میں کامیابی حاصل کی اورحقیقی طورپرقرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،مجموعی طورپرموجودہ حکومت نے سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے جانیوالے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی کی ہے۔وزارت خزانہ کے ترجمان نے قرضوں کے حوالہ سے جاری ہونے والے وضاحتی بیان میں کہاہے کہ حکومت کو قرضوں کے حوالہ سے غیریقنی اورمشکل صورتحال ورثہ میں ملی جسے نظم وضبط، اخراجات پرموثرطریقے سے قابوپانے، اورٹیکس ونان ٹیکس محصولات میں اضافہ کے ذریعہ قابومیں لایا گیا، حکومتی کوششوں کے نتیجہ میں پرائمری بیلنس فاضل ہوگیا، سابق حکومتوں کی جانب سے لئے گئےقرضوں پرسودکی ادائیگی نے موجودہ حکومت کو قرضہ لینے پرمجبورکیا۔ترجمان نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکراکتوبر2020 تک کی مدت میں قرضوں کے سٹاک میں 397ارب روپے کامعمولی اضافہ ہواہے تاہم یہ بین

الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایڈجسٹمنٹ کے دوبارہ جائزہ کاحصہ نہیں ہے، اگراسے ایڈجسٹمنٹس میں شامل کیاجائے توحقیقی اعدادوشمارتقریباً یکساں ہوں گے۔ترجمان نے کہاکہ ایک اوراہم عنصر جس کی وجہ سے حکومت قرضہ لینے پرمجبورہوئی ہے وہ جولائی سے لیکراکتوبرتک کی مدت میں

سابق ادوارمیں لئے جانیوالے قرضوں پردس کھرب روپے کے سود کی ادائیگی کا تقاضا ہے، یہ جون 2020 سے قبل 47 کھرب روپے کی ادائیگی کے علاوہ ہے، مجموعی طورپرموجودہ حکومت نے سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے گئے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…