کورونا وائرس، ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 10 جنوری تک بند کس صوبے میں 28فروری تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے ؟حکومت نے اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  12:42

اسلام آباد(آن لائن )کورونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت آنے کے ساتھ ملک بھر میں سے تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ حالیہ وزرائے تعلیم کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں 26 نومبر سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم کےاعلان کے تحت جمعرات سے 24 دسمبر تک تمام اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں اور مدرسے بند رہیں گے جب کہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کھلے رہیں گے۔اس کے علاوہ دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔24 دسمبر تک آن لائن کلاسز ہوں گی اور اس کے بعد


10جنوری تک سردیوں کی چھٹیاں ہوں گی جس کے بعد جنوری کے پہلے ہفتے میں صورتحال کا جائزہ لے کر 11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب بلوچستان کے تعلیمی ادارے 28 فروری تک بند رہیں گے۔دوسری جانب کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ملک میں جمعرات کو مسلسل دوسرے روز 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مزید 40 افراد انتقال کرگئے ، جولائی کے بعد مسلسل دوسرے دن کیسز کی اتنی بڑی تعداد ہے۔اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار 198 ہے جس میں سے 3 لاکھ 34 ہزار 392 صحتیاب ہوئے ہیں جو 86 فیصد سے زائد ہےجبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 843 تک پہنچ گئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 3 ہزار 306 کیسز اور 40 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ ایک ہزار 418 مریض صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد43 ہزار 963 تک پہنچ گئی۔ جمعرات 26 نومبر کو ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کے مطابق صوبہ سندھ جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے وہاں 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار 348 کیسز کا اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار 381 تک پہنچ گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں 8 افراد ایسے تھے جو اس عالمی وبا کے باعث انتقال بھی کرگئے اور یوں یہ تعداد 2 ہزار 866 تک جا پہنچی۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 720 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد یہاں متاثرینکی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار 506 ہوگئی۔ صوبے میں وبا کی وجہ سے مزید 19مریض انتقال کر گئے جس کے بعد پنجاب میں اموات کی تعداد 2 ہزار 923 ہوگئی۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 514 افراد کو وبا نے متاثر کیا جس کے بعد مجموعیمتاثرین کی تعداد 45 ہزار 314 ہوگئی۔اس کے علاوہ 5 افراد لقمہ اجل بنے جس کے بعد اموات کی تعداد ایک ہزار 344 تک جا پہنچی۔ بلوچستان صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 51 کیسز سامنے آئے اور یوں مجموعی کیسز 16 ہزار 942 تک پہنچ گئے۔بلوچستان میں کورونا وائرسسے مرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک فرد کا اضافہ ہوا اور اس طرح مجموعی تعداد 165 تک جاپہنچی۔ اسی طرح اسلام آباد میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں وبا کے مزید 576 کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد یہاں متاثرہ افرادکی تعداد 28 ہزار 555 ہوگئی۔ دارالحکومت میں کورونا سے مزید 6 مریض جاں بحق بھی ہوئے جس کے بعد یہاں اموات بڑھ کر 297 ہوگئیں۔آزاد کشمیر میں کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق میں کورونا کے 87 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق ہوئی جس کے بعدوادی میں متاثرین کی تعداد 6 ہزار 403 ہوگئی۔ آزاد کشمیر میں وائرس سے مزید ایک فرد زندگی کی بازی ہارگیا اور اس طرح وہاں اموات کی مجموعی تعداد 152 تک جا پہنچی۔ گلگت بلتستان میں وبا کے 10 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار 583 ہوگئی۔مزید یہ کہ 24 گھنٹوں میں وہاں کوئی موت واقع نہیں ہوئی جس کے بعد گلگت بلتستان میں اموات کی مجموعی تعداد 96 پر برقرار ہے۔ اس دوران پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے صحتیاب ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار418 افراد شفایاب ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مریضوں کے شفایاب ہونے کے بعد مجموعی طور پر یہ تعداد 3 لاکھ 34 ہزار 392 ہوگئی۔ ملک میں عالمی وبا کے کیسز، اموات اور صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد اگر مجموعی صورتحال کے مطابق مصدقہ کیسز:386198،صحتیاب: 334392،اموات: 7843 جبکہ فعال کیسز 43963 ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎