پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اصل ذمہ داروں کو بچانے کیلئے جونیئرز کو قربانی کا بکرا بنایاگیا، نواز شریف نے کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ مسترد کر دی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن(آن لائن) سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ کو مستردکردیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کراچی واقعہ کی آرمی چیف کے حکم پر کورٹ آف انکوائری رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔ خود کو بچانے کے

لئے جونیئر افسران کو قربان کرنے کی یہ روش قابلِ مذمت ہے۔ رپورٹ ریجیکٹڈ!۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ کراچی مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پرآئی جی سندھ کے تحفظات کے معاملے کی انکوائری مکمل کرکے متعلقہ افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی، واقعہ کی انکوائری آرمی چیف کے حکم پر کی گئی۔کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18/19اکتوبر کی درمیانی شَب پاکستان رینجرز سندھ اورسیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار ِ قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی ردِ عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کیلئے عوام کا شدید دباؤ تھا۔ ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مدِ نظر سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سْست روی کا شکار پایا۔بیان کے مطابق اس کشیدہ مگر پْر اشتعال صورتحال پر قابو پانے کیلئے اِن آفیسرز نے اپنی حیثیت میں کسی قدر

جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ اعلامیہ کے مطابق ذمہ دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریزکرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ اعلامیہ کے مطابق کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے، ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…