قومیں کپاس، کپڑا فروخت کرنے سے نہیں بلکہ اس کام سے امیر ہوتی ہیں، پاکستان دنیا میں ایک طاقتور ملک بنے گا،وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام

  ہفتہ‬‮ 24 اکتوبر‬‮ 2020  |  18:36

عیسیٰ خیل، میانوالی (آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں ایک طاقتور ملک بنے گا، قومیں کپاس اور کپڑا فروخت کرنے سے نہیں بلکہ تعلیم پر پیسہ لگانے سے امیر ہوتی ہیں۔جن کے میڈیکل چیک اپ اور بچے لندن میں ہوں انہیں پسیماندہ علاقوں کا کیسے احساس ہوگا۔ عیسیٰ خیل کیڈٹ کا لج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہاں گرلز اسکولنہیں تھے، نہ اسپتالوں میں نرسز اور لیڈی ڈاکٹر تھیں، اب ہم اسپتالوں میں نرسز اور لیڈی ڈاکٹر تعینات کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور میں نے


حکم دیا ہے کہ یہاں کے اسپتال خود اخباروں میں اشتہار دیکر ڈاکٹر بھرتی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ قومیں کپاس اور کپڑا بیچنے سے امیر نہیں ہوتیں بلکہ تعلیم پر خرچ کرنے سے امیر ہوتی ہیں، ہم میانوالی میں ایک عالمی معیار کی نمل یونیورسٹی بنا رہے ہیں جو ایک نالج سٹی ہو گا، یہاں سے پورے پاکستان کے لیے زرعی شعبے پر ریسرچ ہو گی۔اپوزیشن کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک شہر پر پیسہ لگانے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں، جن کے میڈیکل چیک اپ اور بچے لندن میں ہوں انہیں پسماندہ علاقوں کا کیسے احساس ہوگا۔ مدینہ کی ریاست کا اصول ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور قانون کی بالا دستی کا مطلب ہے کہ ہم نے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے تاکہ کوئی بھی طاقتور اس پر ظلم نہ کر سکے۔آئی جی پنجاب انعام غنی اور ایس پی میانوالی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ نے خاص نظر رکھنی ہے کہ تھانوں میں کسی غریب کو کوئی ظلم نہ ہو، چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار قوم بنے اور انہیں کسی کا خوف نہ ہو، جو ظلم کرے اسے سزا ملے، چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارا سب سے پہلا فوکس ہے کہ میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے پسیماندہ علاقوں کواوپر لیکر آئیں تاکہ یہاں تعلیم بھی ہو، اسپتال بھی ہوں اور پولیس عوام کی مدد کرے۔ میانوالی کے مسائل سے میں بخوبی آگاہ ہوں جبکہ پانی کا مسئلہ ہمارے علاقے کا سب سے بڑا بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی بھی میرے ساتھ نہیں تھا تو میانوالی کے لوگ میرے ساتھ تھے۔ جب لوگ کہتے تھے کہ کھلاڑی کیسےسیاست کرے گا تو میانوالی کے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور تحریک انصاف کو پہلی سیٹ بھی عیسیٰ کے لوگوں نے دلوائی۔وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ عیسی ٰ خیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق بات کی، یہاں لڑکیوں کے اسکولز نہیں تھے اور تحصیل میں نرسیں نہیں ملتی تھی۔انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں عثمان بزدار کوکیوں وزیراعلیٰ بنایا۔ ڈی جی خان میانوالی سے بھی پسماندہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ کمزور بچارے جیلوں میں ہیں اور بڑے چور لندن میں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ کسی غریب کمزور کے اوپر تھانے میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔ مغربی ممالک میں قانون کی بالادستی ہے اسی وجہ سے ہو خوشحال ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے ملک میں تھانے، کچہری اور پٹواریوں کی سیاست تھی لیکن ہماری حکومت تھانے، کچہری اور پٹواریوں کی سیاست سے لوگوں کو آزاد کرنا چاہتی ہے اور میں چاہتا ہوں جو محنت کرے اس کو اس کا پھل ملے، وزیر اعظم نے کہا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم اور ناانصافی کا نہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎