جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس جب کمرے میں داخل ہوئی تو میں سو رہی تھی پولیس نے دروازہ توڑ کر کیپٹن(ر)صفدر کو گرفتار کیا مریم نواز نے دعویٰ کردیا، توڑ پھوڑ کی تصاویر بھی جاری

datetime 19  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی( آ ن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ( ن) کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پولیس نے نجی ہوٹل کے کمرے سے حراست میں لے لیا ہے ،مریم نواز نے شوہر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس  ہوٹل کے دروازے توڑ کر کمرے میں داخل ہوئی ۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ جب پولیس ان کے کمرے میں دروازہ توڑ کر داخل ہوئی تو وہ سو رہی تھیں۔کیپٹن(ر) صفدر کو مزار قائد تقدس پامالی کیس میں گرفتار کرنے کے بعد عزیز بھٹی تھانے منتقل کر دیا گیا۔پیر کی صبح مزار قائد تقدس پامالی کا مقدمہ مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ شہری وقاص کی مدعیت میں بریگیڈ تھانے میں درج کیا گیا۔مقدمہ تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کے بعد درج کیا گیا جس میں مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سمیت دیگر 200 افراد نامزد ہیں۔مقدمے میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی کی دفعات سمیت جان سے مارنے اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل ہیں۔گرفتاری کے موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ مزار قائد پر صرف مادر ملت اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا،جیلوں میں جانے سے نہیں گھبراتے ،مخالفین تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے

دیکھ لیں لیکن ووٹ کی حرمت کی اجازت نہیں دینگے ،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گھر گھر پہنچ چکا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی تھی اور مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو” کے نعرے لگائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…