طلال چوہدری ، عائشہ رجب معاملہ مسلم لیگ ن کا طلال چوہدری سے متعلق اہم فیصلے کا امکان

  پیر‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2020  |  13:36

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں واضح شکست کو دیکھتے ہوئے حکومت پری پول دھاندلی کے تحت کسی نہ کسی طرح شہباز شریف کو پابند سلاسل کرنا چاہتی ہے ،عوام نواز شریف کے ساتھ ہیں ۔حکومت اپنے ہتھکنڈوں سے عوام کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتی ۔ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گلگت بلتستان میں مثالی ترقیاتی کام کئے ہیں اس لئے حکومت کو وہاں اپنی شکست نظر آرہی ہے،گلگت بلتستان کے


انتخابات میں پری پول دھاندلی کرنے کیلئے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کوکسی نہ کسی طرح پابند سلاسل کرنے کی خواہش ہے ، یہ حکومت کی اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن کی انتہاء ہے ، ہم حکومت کے ایسے وارنٹس اور ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ ہم قائد اعظم ،جمہوری اور آئین کے پاکستان کے لئے بڑی سے قربانی دیں گے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔احسن اقبال نے طلال چوہدری کے معاملے پر سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ۔لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ اب جو بھی احتجاج ہوگا وہ اے پی سی کی میٹنگ اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے اعلان کے مطابق ہوگااور مسلم لیگ(ن) اس کی پابند ہیں ،پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی طرف سے احتجاج کے لئے جو بھی پروگرام مرتب کیا جائے گا مسلم لیگ (ن) اس کو فالو کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی شہباز شریف کا کیس سنا ہے وہ اس بات سے متفق ہے کہ یہ ایک سیاسی انتقام ہےاوراس کیس کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ بے بنیاد الزام تراشی کے بنیاد پر قائم کیا گیا ہے ، خاص طور پر جب ریفرنس دائر ہو چکا ہے فرد جرم لگنے کا مرحلہ ہے اس کے بعد کوئی تفتیش باقی نہیں ہے توگرفتاری کا کوئی جواز نہیں یہ صرف سیاسی مقصد کے لئے اقدام ہے ۔انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری کے معاملے پر حکومت پوائنٹ سکورننگ کر رہی ہے ،مسلم لیگ (ن) کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ایک دو روز میں اپنا فیصلہ سنائے گی ، طلال چوہدری کے معاملے میں شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کو بتائیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎