پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسد عمر اور شیریں مزاری کے درمیان کس بات پر تلخ کلامی ہوئی؟اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء کو غیرضروری بیانات دینے سے روک دیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی و سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اورکئی اہم فیصلے کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزراء کو غیر ضروری بیانات دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ کوئی وزیرفضول بات نہ کرے، وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ کوئی وفاقی وزیر حساس اور مذہبی معاملات پربات نہیں کرے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کیا اور کہاکہ سب سے زیادہ شیریں مزاری بولتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ انرجی کمیٹی کی سمری سے شروع ہوا، انرجی کمیٹی کی سمری اجلاس شروع ہونے کے بعد سرکولیٹ کی گئی جس پر شیریں مزاری نے اعتراض کیا۔ذرائع نے بتایا کہ شیریں مزاری نے کہاکہ اگر سمری وقت پر سرکولیٹ نہیں ہوگی تو ہم پڑھ نہیں پائیں گے۔ کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت کا بھی چرچہ رہا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اے پی سی سے کوئی خطرہ نہیں، اے پی سی کے مقاصد سے پوری قوم آگاہ ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ ارکان نے کہا کہ اے پی سی ابو بچاؤ مہم ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد

میں گرین ایریا پر جیل کی تعمیر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، گرین ایریا کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو معاملے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اٹارنی جنرل عدالت کو وفاقی حکومت کے مؤقف سے آگاہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…