وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسد عمر اور شیریں مزاری کے درمیان کس بات پر تلخ کلامی ہوئی؟اندرونی کہانی سامنے آگئی

  بدھ‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2020  |  11:32

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء کو غیرضروری بیانات دینے سے روک دیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی و سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اورکئی اہم فیصلے کیے گئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزراء کو غیر ضروری بیانات دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ کوئی وزیرفضول بات نہ کرے، وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ کوئی وفاقی وزیر حساس اور مذہبی معاملات پربات نہیں کرے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی


وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کیا اور کہاکہ سب سے زیادہ شیریں مزاری بولتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ انرجی کمیٹی کی سمری سے شروع ہوا، انرجی کمیٹی کی سمری اجلاس شروع ہونے کے بعد سرکولیٹ کی گئی جس پر شیریں مزاری نے اعتراض کیا۔ذرائع نے بتایا کہ شیریں مزاری نے کہاکہ اگر سمری وقت پر سرکولیٹ نہیں ہوگی تو ہم پڑھ نہیں پائیں گے۔ کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت کا بھی چرچہ رہا۔ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اے پی سی سے کوئی خطرہ نہیں، اے پی سی کے مقاصد سے پوری قوم آگاہ ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ ارکان نے کہا کہ اے پی سی ابو بچاؤ مہم ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آبادمیں گرین ایریا پر جیل کی تعمیر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، گرین ایریا کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو معاملے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اٹارنی جنرل عدالت کو وفاقی حکومت کے مؤقف سے آگاہ کریں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎